مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 26 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 26

مالی قربانی 26 طاری ہو چکی ہو تم میں سے بہت سے لوگ یہ گمان کرنے لگ جائیں گے۔کہ اب بھی جان اور مال کی قربانی کے معنے روپیہ پر ایک آنہ چندہ دینا یا ڈیڑھ آنہ چندہ دینا ہے۔اور جان کی قربانی کے معنے ہفتہ یا مہینہ میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وقت دے دینا ہے۔حالانکہ وہ وقت ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ چندہ دینے کا نہیں ہوگا۔نہ اپنے اوقات میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وقت دینے کا ہوگا۔بلکہ سارے کا سارا مال اور ساری کی ساری جان خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دینے کا وقت ہوگا۔اس وقت گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ۔۔وقت دینے کا سوال نہیں ہوگا۔بلکہ اپنی جان کو قربان کرنے کا سوال ہوگا۔اور اس وقت صرف آنہ ڈیڑھ آنہ چندہ دینے کا سوال نہیں ہوگا۔بلکہ اپنے سارے مال اور ساری جائیداد سے ایک لمحہ کے اندر دست بردار ہونے کا سوال ہوگا۔" (الفضل ربوه ،۱۰ را پریل ۱۹۶۲ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد چندوں میں ایزادی بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے تین مہینے میں اگر کوئی ایک پیسہ بھی چندہ دیتا ہے تو وہ احمدی ہے۔مگر اب ایک آنہ فی روپیہ ماہوار چندہ ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح کی جماعت پہلے کو نیپل ہوگی۔اور پھر ترقی کرتی جائے گی گویا وہ قربانیوں میں بڑھ جائے گی۔اور مضبوط ہو جائے گی یہ نہیں کہ حضرت مسیح کی جماعت پہلے زیادہ ہوگی اور بعد میں کم ہو جائے گی بلکہ یہ جو فرمایا ہے کہ پہلے کمزور ہوگی۔بعد میں مضبوط ہو جائے گی۔اس سے ایمانی کمزوری مراد ہے۔کوئی کہے پہلے مخلصین کی اس میں ہتک تو نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت تھے؟ مگر نہیں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض میں جو اخلاص تھا۔وہ بعد میں آنے والوں میں پیدا نہ ہو۔جیسا کہ فرمایا " چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نورد میں بودے" ممکن ہے ایسے اخلاص والے نہ ہوں لیکن وہ ممتاز ہستیاں جو ایک تعارف