مالی قربانی ایک تعارف — Page 25
مالی قربانی 25 دی گئی کہ جان اور مال کی قربانی کا وقت آ گیا ہے لوگ پھر اپنی جانیں اور اپنے اموال لے کر حاضر ہوئے۔تو انہیں کہا گیا۔کہ تم روپیہ میں سے ایک پیسہ چندہ دے دیا کرو۔اس پر کچھ مدت گزری تو مرکز کی طرف سے پھر آواز بلند ہوئی کہ آؤ اور اپنی جانیں اور اپنے اموال دین کی خدمت کیلئے وقف کر دو۔لوگ پھر آگے بڑھے تو انہیں کہا گیا کہ آئندہ پیسہ کی بجائے دو پیسہ روپیہ چندہ دیا کرو یہ حالت اس طرح بڑھتی چلی گئی۔دھیلے سے یہ آواز شروع ہوئی تھی پھر پیسہ پر پہنچی پھر دو پیسہ پر پہنچی۔پھر کہا گیا کہ دو پیسے کا بھی سوال نہیں تین پیسے دیا کرو۔تین پیسے دیتے رہے تو کہا گیا اب چار پیسے دیا کرو۔پھر وقت آیا تو کہا گیا کہ اپنی جائیدادوں اور اپنی آمدنیوں کی وصیت کر دو۔اور اس وصیت میں بھی کم سے کم دسویں حصہ کا مطالبہ کیا گیا۔پھر کہا گیا کہ دسواں حصہ بہت کم ہے تمہیں نواں حصہ دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور جن کو خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔وہ اس سے بھی بڑھ کر قربانی کریں۔وہ لوگ جن کو خدا نے سمجھنے والا دل اور غور کرنے والا دماغ دیا ہے۔وہ تو جانتے ہیں۔کہ ہم کو قدم بہ قدم اس مقصد کے قریب کیا جا رہا ہے جس کے بغیر تو میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔لیکن بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قربانی اور ایثار کے الفاظ جو متواتر استعمال کئے جاتے ہیں۔حقیقت سے بالکل خالی ہیں۔قربانی اور ایثار کے مالی لحاظ سے صرف اتنے معنے ہیں کہ روپیہ میں سے آنہ دے دیا یا آنہ نہ دیا تو ڈیڑھ آنہ دے دیا۔اور وقت کی قربانی کے لحاظ سے اس کے صرف اتنے معنے ہیں کہ چوبیس گھنٹہ میں گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ دے دیا اور ان کی نظروں سے یہ بات بالکل اوجھل ہو جاتی ہے کہ کسی دن سچ مچ ہمیں اپنی جان اور اپنا مال قربان کرنے کیلئے آگے بڑھنا پڑے گا۔بالکل ممکن ہے کہ آخر میں جب۔حقیقی اور سچی آواز خدا تعالیٰ کے نمائندہ کے منہ سے نکلے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ہو جائے کہ وہ آواز جو آج سے ۵۰-۶۰ سال پہلے بلند کی جارہی تھی۔اس کا حقیقی ظہور ہو۔تو اس غفلت کی بناء پر جو مرور زمانہ کی وجہ سے تم پر ایک تعارف