مالی قربانی ایک تعارف — Page 12
مالی قربانی 12 ایک تعارف اَنْظُرُ إِلى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَاتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَاكُلُ اَنَا وَعِيَالِي ثُلُنَّاوَاَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ۔(صحیح مسلم۔كتاب الزهد) ترجمہ:۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے یہ قصہ بیان کیا کہ ایک آدمی بے آب و گیاہ جنگل میں جارہا تھا، بادل گھرے ہوئے تھے۔اس نے بادل میں سے آواز سنی کہ اے بادل فلاں انسان کے باغ کو سیراب کر۔وہ بادل اس طرف کو ہٹ گیا، پتھریلی سطح مرتفع پر بارش برسی۔پانی ایک چھوٹے سے نالے میں بہنے لگا۔وہ شخص بھی اس نالے کے کنارے کنارے چل پڑا۔کیا دیکھتا ہے کہ یہ نالہ ایک باغ میں جاداخل ہوا ہے اور باغ کا مالک کدال سے پانی ادھر ادھر مختلف کیاریوں میں لگا رہا ہے۔اس آدمی نے باغ کے مالک سے پوچھا۔اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس مسافر نے اس بادل میں سے سنا تھا۔پھر باغ کے مالک نے اس مسافر سے پوچھا۔اے اللہ کے بندے ! تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھتے ہو ؟ اس نے کہا میں نے اس بادل میں سے جس کی بارش کا تم پانی لگا رہے ہو یہ آواز سنی تھی کہ اے بادل فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر تم نے کون سا ایسا نیک عمل کیا ہے جس کا یہ بدلہ تجھ کو ملا ہے؟ باغ کے مالک نے کہا۔اگر آپ پوچھتے ہیں تو سنیں۔میرا طریق کار یہ ہے کہ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں، ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل وعیال کے گزارہ کیلئے رکھتا ہوں اور باقی ایک تہائی دوبارہ ان کھیتوں میں بیج کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔---- عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيَّ صَلَّ الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْهِ ارْضَحَى مَا اسْتَطَعْتِ۔(صحیح بخارى كتاب الزكواة) ترجمہ:۔حضرت رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابی بکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو۔ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔اپنے روپیوں کی تھیلی کا