مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 13 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 13

مالی قربانی 13 ایک تعارف منہ ( بخل کی راہ سے ) بند کر کے نہ بیٹھ جانا ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔جتنی طاقت ہے دل کھول کر خرچ کیا کرو۔---- أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ اَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ؟ قَالُوا يَا رَسُول اللَّهِ، مَامِنَّا اَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ اَحَبُّ إِلَيْهِ، قَالَ : فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق ترجمہ:۔ایک دفعہ حضور ﷺ نے صحابہ کی مجلس میں ان سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جسے (اپنے بعد میں ہونے والے ) وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز اور پیارا ہو۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر یاد رکھو تمہار اصل مال وہی ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کر کے آگے بھیجوا چکے ہو، جو پیچھے باقی رہ گیا وہ وارثوں کا مال ہے۔---- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ عالم: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَّا تَمُرَّ عَلَيَّ قُلْتُ لَيَالِ وعِندَى مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئاً أَرْصِدُهُ لِدَيْنِ۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق ترجمہ:۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میرے پاس اُحد جتنا سونا ہو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھ پر تین راتیں نہ گزریں اور میرے پاس اس میں سے کچھ موجود نہ ہومگر وہ تھوڑا بہت جس کو قرض کی ادائیگی کیلئے میں رکھ لوں۔