مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 172 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 172

مالی قربانی 172 ایک تعارف جواب۔تاجر حضرات کو اپنی کل آمد (Gross income) میں سے ایسے اخرجات وضع کر کے جو آمد پیدا کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں باقی مجموعی اصل آمد (Net total income) پر چندہ ادا کرنا ہوگا۔محض اپنے ماہانہ اخراجات کیلئے تجارت (Business) سے وصول کردہ رقم (Drawings) پر چندہ ادا کر نا درست نہیں۔سوال:۔کاروبار سے حاصل ہونے والی آمد پر چندہ وصیت کس شرح سے ادا کرنا ضروری ہوگا ؟ جواب:۔کاروبار سے حاصل ہونے والی آمد پر موصی کا اپنی مقرر کردہ شرح کے مطابق ادائیگی کرنا ضروری ہوگی۔(نہ کہ چندہ عام کی شرح سے ) زندگی میں وصیت کی ادائیگی کا روبار سے حاصل ہونے والی آمد سے ہو گی۔راس المال یعنی کل اثاثے منفی کل Liability پر ادا ئیگی وفات کے وقت ہوگی یا اگر موصی خود زندگی میں اس پر چندہ کی ادائیگی کرنا چاہے۔WorkingCapital پر چندہ نہیں ہوتا۔سوال:۔کیا بلڈنگ کنسٹرکشن میں استعمال ہونے والی مشنری شٹرنگ میٹریل بطور جائیدا دوصیت میں درج ہوگا۔جواب:۔کسی بھی قسم کا کاروبار ہو چاہے وہ فیکٹری / میل یا کنسٹرکشن کمپنی ہو ، وہ صرف اس حد تک موصی کی جائیداد شمار ہوگی۔جس حد تک موصی کا حصہ ہوگا۔مثلاً اگر کسی فیکٹری / مل یا کنسٹرکشن کمپنی کی کل مالیت اس کے اثاثے ، بنک بیلنس وغیرہ کی مالیت ایک کروڑ ہو اور اس کا روبار کے ذمہ واجب الاداء بنک کا قرضہ اور دیگر واجبات کی مالیت ۶۰ لاکھ ہو تو موصی کا حصہ ۴۰ لاکھ روپے بنے گا۔اور وہ اس کی جائیداد شمار ہوگی۔جس پر وہ حصہ جائیداد ادا کرے گا۔یعنی کل اثاثے منفی کل قرضہ اور دیگر واجبات = موصی کا حصہ جس پر چندہ حصہ جائیداد ادا ہو گا۔اور کاروبار پر حصہ جائیداد عموماً موصی کی وفات پر ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ اپنی زندگی میں ادا کرنا چاہے تو مندرجہ بالا طریق کے مطابق اسکے کاروبار کے تمام اثاثہ جات کی تشخیص کے بعد اس کمپنی یا کاروبار کے ذمہ قرض اور دیگر واجبات کو منہا کر کے بقایا اثاثہ جات پر حصہ جائیدا دادا ہوگا۔وفات و کتبہ جات سے متعلق سوال: کیا مقامی مقبرہ موصیان کے انتظام و انصرام اور تدفین کیلئے وہی قوانین ہیں جو بہشتی مقبرہ ربوہ