مالی قربانی ایک تعارف — Page 171
مالی قربانی 171 ایک تعارف سواگر موصی اپنی زندگی میں ہی حصہ جائیداد ادا کرنا چاہتا ہے تو قرض پر لی گئی جائیداد بھی اس کی جائیداد متصور ہوگی۔اور اسے اس کی رائج الوقت قیمت پر حصہ جائیدا دا دا کرنا لازم ہوگا۔لیکن اگر قرض کی مکمل ادائیگی سے قبل ہی اس کی وفات ہو جائے تو کل مارکیٹ ویلیو میں سے بقیہ واجب الاداء قرض کی رقم منہا کر کے حصہ جائیدا دادا کیا جائے گا۔ادائیگی حصہ جائیداد بعد از وفات سوال: اگر کسی موصی نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد پر حصہ جائیداد ادا کر دیا ہو، تو کیا اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء اس جائیداد پر دوبارہ اس کا حصہ جائیداد ادا کریں گے؟ جواب:۔اگر موصی نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد پر حصہ جائیداد ادا کر دیا ہے تو اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کو اس جائیداد پر دوبارہ حصہ جائیداد ادا نہیں کرنا ہوگا۔سوال:۔موصی کی وفات کی صورت میں حصہ جائیداد کی ادائیگی کا کیا طریق ہوگا؟ جواب:۔موصی کی وفات کے وقت پر حصہ جائیداد فوری ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔اگر اس کے ورثاء فوری ادائیگی نہیں کر سکتے تو ایسی صورت میں ان کی طرف سے کوئی قابل اعتماد ضمانت پیش ہونے پر مجلس کار پرداز ایسے موصی کو استثنائی طور پر تدفین کی اجازت دے سکتی ہے۔تاہم یہ ضمانت زیادہ سے زیادہ ایک سال کی مدت کیلئے ہوگی۔اس عرصہ میں مکمل ادائیگی ہوناضروری ہے۔کاروبار سے متعلق سوالات سوال:۔کیا کاروبار میں لگا ہوا سر مایہ ( راس المال ) وصیت کنندہ کی جائیداد شمار ہو گا ؟ اور کیا اس کا اندراج وصیت فارم میں کیا جانا ضروری ہے؟ جواب:۔کاروبار میں لگا ہوا سر مایہ ( راس المال) وصیت کنندہ کی جائیداد شمار ہوگا۔اور اس کی مکمل تفصیل کا وصیت فارم میں درج کیا جانا ضروری ہوگا۔سوال: کیا کاروبار سے حاصل ہونے والے کل منافع (Net income) پر چندہ وصیت ادا کرنا ضروری ہوگایا کہ ایک تاجر جو اپنے روزمرہ گزارے کیلئے اس منافع سے ایک مقرر کردہ رقم حاصل کرتا ہے اس پر چندہ کی ادائیگی کی جائے گی ؟