مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 91 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 91

مالی قربانی 91 " جو احباب کوئی جائیداد نہیں رکھتے مگر آمدنی کی کوئی سبیل رکھتے ہیں وہ اپنی آمدنی کا کم از کم ۱/۱۰ حصہ ماہوارانجمن کے سپرد کریں۔لیکن ان کو وصیت کرنی ہوگی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے متروکہ کی کم از کم ۱/۱۰ حصہ کی مالک انجمن ہو۔" دنیا کا نیا نظام الوصیت میں موجود ہے "1۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۳۲) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں:۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ علاوہ کوۃ کے غرباء کی سب ضرورتیں رسول کریم ے چندوں سے پوری فرمایا کرتے تھے۔" ( نظام نوصفحه ۱۱۰) ضرورت ہے کہ اس موجودہ دور میں اسلامی تعلیم کا نفاذ ایسی صورت میں کیا جائے کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو ان دنیوی تحریکوں میں ہیں اور اس قدر رو پی بھی اسلامی نظام کے ہاتھ میں آجائے جو موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مساوات کو قائم رکھنے اور سب لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے۔" ( نظام نو صفحه ۱۱۲) خلفاء نے اپنے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی۔مگر موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کسی اور نظام کی ضرورت تھی اور اس نظام کے قیام کیلئے ضروری تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ ان تمام دکھوں اور دردوں کو مٹانے کیلئے ایسا نظام پیش کرے جوز مینی نہ ہو بلکہ آسمانی ہوا اور ایسا ڈھانچہ پیش کرے جو ان تمام ضرورتوں کو پورا کر دے جو غرباء کو لاحق ہیں اور دنیا کی بے چینی کو دور کر دے۔" ( نظام نوصفحه ۱۱۳) "۔پس موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے خاتم الخلفاء کا فرض تھا کہ وہ اسلامی اصول کے مطابق کوئی سکیم تیار کرتا اور دنیا سے اس مصیبت کا خاتمہ کر دیتا۔" ایک تعارف