مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 84 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 84

مالی قربانی 84 ایک تعارف جہاں کشائش پیدا ہو چکی ہے۔ہر ایک عورت نے کچھ نہ کچھ زیور بنایا ہوا ہے۔(یعنی) تقریباً ہر ایک عورت پر کچھ نہ کچھ زکوۃ فرض ہوتی ہوگی۔زکوۃ کے لئے جو نصاب اور شرائط مقرر ہیں ان کے مطابق پاکستانی کرنسی میں (زکوۃ ) لیں تو تقریباً ڈیڑھ تولہ سونے کے برابر زکوۃ (واجب) ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے ہر ایک (عورت) کے پاس کم از کم اتنا سونا ہوتا ہے ،اس لئے اس پر زکوۃ ادا کرنی چاہیے۔بہر حال ہر ملک میں قیمت کا اندازہ کر کے زکوۃ ادا کرنی چاہیے۔(لجنہ سے خطاب بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی - ۲۱ اگست ۲۰۰۴ء) زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق بعض بنیادی معلومات سوال۔کیا ز کوۃ واجب ہونے سے قبل دی جاسکتی ہے؟ جواب۔دی جاسکتی ہے۔سوال۔زکوۃ کیلئے عرصہ کیا شمار ہوتا ہے؟ جواب۔جس تاریخ سے اموال زکوۃ قابل نصاب ہوں اس سے ایک سال بعد ادائیگی زکوۃ واجب ہو جاتی ہے۔سوال۔کیا قرض دی گئی رقم پر زکوۃ واجب ہے؟ جواب۔قرض دی جانے والی رقم پر زکوۃ واجب نہیں البتہ جب رقم واپس ملے تو اس کے ایک سال بعد ز کوۃ واجب ہوگی۔بنکوں میں رکھی گئی رقم قرض کی بجائے رقم محفوظ رکھنے کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔سوال۔بنک میں یا کسی بھی طور پر محفوظ رقم کیلئے زکوۃ کا طریق کیا ہے؟ جواب۔اگر نصاب کے مساوی یا زائد رقم محفوظ رکھی گئی ہو تو ایک سال گذرنے پر زکوة واجب ہو جاتی ہے۔سوال۔کیا چندہ جات زکوۃ کے متبادل ہیں؟ جواب۔چندہ جات زکوۃ کے متبادل نہیں ہیں۔جن احباب پر زکوۃ کی شرائط پوری ہوتی