مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 57 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 57

مالی قربانی 57 ایک تعارف نام کاٹنے کی انہیں اجازت ہو تو آج اگر ایک سست ہے تو کل دوست ہو جائیں گے، پرسوں تیں سُست ہو جائیں گے اور ترسوں چارسُست ہو جائیں گے۔اس صورت میں تو ان کا بجٹ اگر آج چار سوروپیہ کا ہے تو اگلے سال ساڑھے تین سو روپیہ کا رہ جائے گا اور اس سے اگلے سال تین سو کا۔کیونکہ ہر دفعہ وہ کہیں گے کہ اتنے آدمی چونکہ اور سُست ہو گئے ہیں اس لئے اب کی دفعہ ہم نے ان کو بھی شامل نہیں کیا۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر کمزور لوگوں کو الگ کر کے وہ چندہ بھجواتے ہیں تو اس میں ان کی خوبی کون سی ہے ، یہ تو مفت کی نیک نامی حاصل کرنے والی بات ہے جو دیتا ہے وہ تو خود بخود دے رہا ہے اور اس میں تمہاری کون سی خوبی ہے پس یہ طریق بالکل غلط ہے اور جماعت کیلئے سخت مضر ہے اس سے نہ صرف جماعت کسی تعریف کی مستحق نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے افراد میں ترقی کی بجائے تنزل کے آثار پیدا ہو جائیں گے اور جب کمزوروں کے نام جماعت کی لسٹ سے کاٹ دئے جائیں گے تو ان کی اصلاح کا خیال جاتا رہے گا۔اور آہستہ آہستہ ان کا ایمان بالکل ضائع ہو جائے گا۔" تاجروں کے بارہ میں تاکیدی ارشاد مجلس مشاورت ۱۹۳۸ ء کے موقع پر تاجروں سے آمد کے بارہ میں حلف نہ لینے بلکہ صرف تحریک اور نصیحت سے ہی کام لینے کی تجویز پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا:۔" میری رائے اس وقت یہی ہے کہ تاجر چندوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ گو میں نے کثرت رائے کو قبول کیا ہے لیکن میرے نزدیک اس تجویز کا ایک حصہ درست نہیں یعنی اس کی یہ تجویز کہ اگر تا جر اپنی آمد بتانے سے انکار کر دیں تو انہیں نصیحت اور تحریک کی جائے۔اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ جو تنخواہ دار ہیں ہم سب بوجھ انہیں پر ڈال دیں۔اور تاجر آرام سے بیٹھ ر ہیں پس حلف بے شک نا پسندیدہ ہے مگر کوئی وجہ نہ تھی کہ تاجر سے اتنا بھی نہ پوچھا جائے کہ اس کی آمد کتنی ہے۔اور وہ اتنی بات بتانے سے بھی انکار کر دے انسان کو دلیری