مالی قربانی ایک تعارف — Page 49
مالی قربانی 49 ایک تعارف ہوں پس یہ نہیں کہ ایک آنہ فی روپیہ سے کم کوئی نہیں دے سکتا بلکہ یہ کہ بلا اجازت نہیں دے سکتا۔اجازت لینے کی اس لئے ضرورت ہے کہ یہاں اس کے متعلق ریکارڈ رہے اور اسے مقررہ چندہ دینے کا خیال رہے۔پس یہ روک درمیان میں نہیں کہ جو مقررہ شرح سے چندہ نہ دے وہ چندہ دینے میں شامل نہیں ہو سکے گا۔بجٹ ہر جماعت کا ایک آنہ فی روپیہ کے لحاظ سے ہو اور سارے کے سارے افراد کے لحاظ سے خواہ دہندہ ہوں یا نا دہند ہوں، اس طرح آمد کا بجٹ بہت بڑھ سکتا ہے۔خواہ پہلے سال سارا بجٹ وصول نہ ہومگر جو جماعتیں کم بجٹ بناتی ہیں ان کی اصلاح ہو جائیگی۔" ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء) حضور کے اس ارشاد سے مندرجہ ذیل تین بنیادی اصول مستنبط ہوتے ہیں:۔اڈل۔ہر احمدی مردوزن کا نام جو کوئی نہ کوئی آمد کی صورت رکھتا ہے بجٹ میں شامل کیا جائے۔دوم۔بجٹ میں ہر احمدی کی پوری اور صحیح آمد درج کی جائے۔سوم۔چندہ پوری شرح کے ساتھ درج کیا جائے سوائے ان احباب کے جنہوں نے رعایت شرح حاصل کی ہو۔رعایت شرح والے احباب کی آمد صحیح لکھی جائے۔چندہ منظور کردہ رعایتی شرح کے مطابق درج کیا جائے۔نوٹ:۔ا رعایت شرح کیلئے درخواست حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالی کے نام نیشنل مجلس عاملہ کی سفارش کے ساتھ وکالت مال لندن میں بھجوائی جائے۔۲- رعایت شرح ایک سال کیلئے ہوتی ہے۔ہر سال الگ درخواست دی جائے۔۔رعایت شرح حاصل کرنے والے دوست صرف ووٹ دے سکیں گے عہد یدار منتخب نہیں ہوسکیں گے۔ا بجٹ فارم پرنیشنل امیر اصدر جماعت اور نیشنل سیکرٹری مال کے تصدیقی دستخط ضرور ہوں۔