مالی قربانی ایک تعارف — Page 34
مالی قربانی 34 پورے ہونگے۔اگر میں یہ فکر کروں تو مشرک بن جاؤں گا۔مجھے اس بات کی ہرگز فکر نہیں ہے کہ اگر کوئی احمدی ضائع ہو گئے تو ان کی جگہ اور کیسے ملیں گے۔ایک جائے گا تو خدا ہزاروں لاکھوں دے سکتا ہے اس کے بدلے، اور دے گا۔مجھے فکر یہ ہے کہ ایک بھی احمدی ضائع کیوں ہو۔کیوں ہمارا بھائی ایک اچھے رستہ پر چل کر بھٹک جائے اور ہم سے ضائع ہو جائے۔تو مجھے ان کی ذات کا غم ہے۔اپنی جماعت کا غم تو کوئی نہیں۔جماعت کا غم تو میرا خدا کرے گا اور وہی ہمیشہ کرتا چلا آیا ہے۔جماعت کی ضرورتیں وہی پوری کرتا ہے اور وہی پوری کرے گا۔اس لئے جب تک ایک موقعہ دے کر ہم اپنے بھائیوں کو ساتھ نہ ملا لیں ایک آرڈر نہ پیدا ہو جائے نظام کے اندر سارے دوست دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ مالی قربانیوں کے کم سے کم معیار پر پورے نہ اتر آئیں اگر ہم آگے بڑھیں گے تو وہی چندلوگ جو الـســــــابــــــون الاولون ہیں وہی قربانیوں کا بوجھ اٹھاتے چلے جائیں گے۔اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ یہ چند آدمی ہیں ،صرف ،ساری جماعت نہیں ہے۔تو یہ دعا بھی کرنی چاہئے اپنے ان بھائیوں کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ دے عقل دے۔قربانیوں کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔یاد دہانی ضروری ہے (خطبه جمعه ۰ ۱ ستمبر ۱۹۸۲ - چین) " امر واقعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کا حکم قرآن کریم میں جو بار بار دیا گیا ہے۔یہ اس ضرورت کے پیش نظر ہے کہ مالی قربانی سے لوگوں کا تزکیہ ہوتا ہے۔لوگوں کے اندر پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔مومن کو مزید تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور قوم کی اصلاح ہوتی ہے اور قوم میں ایک نئی زندگی پیدا ہوتی ہے اور بہت سی دوسری بدیوں سے چھٹکارے کی توفیق ملتی ہے۔اگر مجھے یاددہانی کا خیال نہ بھی آئے تو اصل قربانی کا جو فلسفہ ہے ، جو ایک تعارف