مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 30 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 30

مالی قربانی 30 تمہارا معاشرہ تمہاری زندگی کی اقدار ساری کی ساری یہ بتا رہی ہیں کہ تمہارے اموال کتنے ہیں۔مگر چونکہ یہ ایک ٹیکس کا نظام نہیں اس لئے اخلاقاً بھی ، تہذیباً بھی اور نظام سلسلہ کی پیروی میں بھی جملہ کارکنان سلسلہ جو منہ سے کوئی کہتا ہے وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی قبول کر لیتے ہیں کہ یہ شخص کہنے والا اپنے قول میں سچا نہیں ہے لیکن واقعات جو گزر جاتے ہیں وہ ایسے تمام دھو کے دینے والوں کیلئے انتہائی خطرہ کا موجب بن جاتے ہیں ان کی ساری عمر کی قربانیاں رائیگاں جاتی ہیں۔ان کے اموال سے برکت چھین لی جاتی ہے۔وہ طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان کو چٹیاں پڑتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو جانتا ہے۔اس کے عطا کے رستے بھی بہت ہیں اور واپس لینے کے رستے بھی بہت ہیں۔رزق سے جو برکتیں ملا کرتی ہیں چین اور تسکین اور آرام جان کی برکتیں ، وہ برکتیں بھی ان سے چھین لی جاتی ہیں۔بسا اوقات ایسے خاندانوں کے اموال ان کی آنکھوں کے سامنے ضائع ہور ہے ہوتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ جو دینے والا ہے جو رازق ہے اس کے ساتھ صدق وسداد کا معاملہ کرو۔تمہاری قربانیاں بھی کام آئیں گی اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں تم مزید فضلوں کے وارث بنائے جاؤ گے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے تم کیوں خوف کھاتے ہو۔یہی تو وہ خرچ ہے جو تمہاری آمد کا ذریعہ ہے اور یہی تو وہ خرچ ہے جو برکتوں کا موجب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں آپ کے صحابہ میں سے جنہوں نے تھوڑے تھوڑے مال بھی آپ کے حضور پیش کئے بعض نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں۔لیکن ان سب کے خاندان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دنیوی لحاظ سے بھی ایسے وارث بنے کہ وہ پہچانے نہیں جاتے اور حیرت انگیز طور پر ان کے اموال میں برکت دی گئی۔ایک تعارف