مالی قربانی ایک تعارف — Page 29
مالی قربانی موصی کا معیار 29 فرمودات حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمه لله تعالی " وصیت کا نظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ ہے۔اس کی شرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ ہے۔کوئی خلیفہ اس کو بدل نہیں سکتا۔1/10 کی شرح 1/10 ہی رہے گی۔اس لئے جو شخص وصیت کر کے 1/10 کا وعدہ کرتا ہے اور دیتا اس سے بہت کم وہ موصی نہیں رہتا۔موصی وہ ہوتا ہے جو اخلاص میں دیانت داری، تقویٰ اور طہارت، اخلاق اور تمام دوسرے معاملات میں صف اول میں ہو۔اسی طرح اس کا مالی قربانی میں بھی صف اول میں ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی موصی اس معیار پر پورا نہیں اترتا اسے از راہ احسان موصیوں کی فہرست سے خارج کردینا چاہیئے۔اس کیلئے یہی بہتر ہے ورنہ اس کی موت اس حال میں ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدعہدی کا مرتکب ہو رہا ہوگا۔ایک موصی اپنی آمدنی جو بتا تا ہے چھان بین کئے بغیر اسے درست مان لیں اور شرح کے مطابق اس آمدنی پر اس سے چندہ لیں لیکن اگر اس امر کا قطعی اور حتمی ثبوت موجود ہو کہ وہ اصل آمدنی سے کم آمدنی بتا رہا ہے تو اسے تسلیم نہ کریں۔کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ عملاً جھوٹ کا مرتکب ہو رہا ہے۔جھوٹ بولنے والا موصی کیسے ہو سکتا ہے؟ اپنے اس فعل سے وہ اپنے آپ کو موصوں کے زمرے سے خارج کرلیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق وسداد کا معاملہ کرو هفت روزه بدر قادیان ۴ /نومبر ۱۹۸۲ء) لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بھی صاحب فراست بندے ہیں۔نہ تو تم مجھے دھوکا دے سکتے ہو، نہ ان بندوں کو دھوکا دے سکتے ہو۔تمہارا رہن سہن، ایک تعارف