مالی قربانی ایک تعارف — Page 24
مالی قربانی 24 بہت ردی ہے۔ہر مسلمان میں ایک قسم کی خود پسندی اور خود رائی ہے۔وہ اپنے اوقات کو، اپنے مال کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرچ نہیں کرتا۔اللہ نے انسان کو آزاد بنایا پر کچھ پابندیاں بھی فرما ئیں بالخصوص مال کے معاملہ میں۔پس مالوں کے خرچ میں بہت احتیاط کرو۔اس زمانہ میں بعض لوگ سود لینا دینا جائز سمجھتے ہیں۔یہ بالکل غلط ہے۔حدیث میں آیا ہے۔سود کا لینے والا ، دینے والا ، بلکہ لکھنے والا اور گواہ ، سب خدا کی لعنت کے نیچے ہیں۔میں اپنی طرف سے حق تبلیغ ادا کر کے تم سے سبکدوش ہوتا ہوں۔میں تمہاری ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں رکھتا۔میں تو چاہتا ہوں کہ تم خدا کے ہو جاؤ۔تم اپنی حالتوں کو سنوارو۔خدا تمہیں عمل کی توفیق دے۔آمین۔" خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۰۹ء) فرمودات حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ مالی قربانیوں کی تکمیل بھی خلفاء کے ذریعہ ہوتی ہے " ہم ہمیشہ اپنی جماعت کے افراد سے یہ مطالبہ کیا کرتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی یہ مطالبہ فرمایا کرتے تھے۔کہ خدا کیلئے اپنی جانوں اور مالوں کو وقف کرد ولیکن ہر زمانہ میں یہ معیار بدلتا چلا گیا ہے۔پہلے دن جب لوگوں نے اس آواز کو سنا تو وہ آگے آئے اور انہوں نے کہا۔ہماری جان اور ہمارا مال حاضر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے جواب کو سنا اور فرمایا۔تم نمازیں پڑھا کرو۔روزے رکھا کرو۔اسلام اور احمدیت کو پھیلایا کرو۔اور اپنے مالوں میں کچھ نہ کچھ دین کی خدمت کیلئے دے دیا کرو۔چاہے روپیہ میں سے دھیلہ ہی کیوں نہ ہو۔لوگوں نے یہ سنا تو ان کے دلوں میں حیرت پیدا ہوئی کہ کام تو بہت معمولی تھا۔پھر ہمیں یہ کیوں کہا گیا تھا کہ آؤ ! اور اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر دو۔کچھ وقت گزرا تو لوگوں کو پھر آواز ایک تعارف