مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 159 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 159

مالی قربانی 159 ایک تعارف ایسے مالکان اراضی " جن کی راہ میں وصیت کرنے میں کوئی دقتیں ہیں تو ان کیلئے مناسب ہے کہ وہ جس قدر جائیداد کو وصیت کرنا چاہتے ہیں اسے بجائے وصیت کے اپنی زندگی میں ہبہ کر دیں اور ہبہ نامہ پر اپنے ور ثائے بازگشت کے (اگر کوئی ہوں ) دستخط کرا ئیں۔جن سے ایسے ورثاء کی رضا مندی پائی جائے"۔( قاعدہ نمبر 45) موصی کی جائیداد سے اگر کوئی آمدنی ہوتی ہو تو اس آمد پر حصہ آمد بشرح چندہ عام (یعنی (۱/۱۶ ) ادا ( قاعدہ نمبر 51) کرنالازم ہوگا۔جس جائیداد کا حصہ جائیداد سو فیصدی ادا کر دیا گیا ہو اس پر حصہ آمد بشرح چندہ عام کی ادائیگی ( قاعدہ نمبر 52) لازمی ہوگی۔پنشن کے کمیوٹ شدہ حصہ پر حصہ آمد کی ادائیگی لازمی ہوگی اور موصی کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اس پر حصہ آمد یکمشت ادا کرے۔یا کسی خاص مجبوری کی وجہ سے ایسا نہ کر سکتا ہو تو حسب ضابطہ مجلس کار پرداز سے ( قاعدہ نمبر 55) اجازت اور مہلت حاصل کرے۔پراویڈنٹ فنڈ کا وہ حصہ جس پر حصہ وصیت نہ ادا کیا گیا ہو اور وہ موصی کی وفات کے بعد پسماندگان کو ملے وہ موصی کا ترکہ شمار ہوگا اور اس پر حصہ وصیت واجب الادا ہو گا۔( قاعدہ نمبر 59) جو موصی وصیت کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ سے چھ ماہ بعد تک چندہ حصہ آمد ادا نہ کرے اور نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت حاصل کرے تو صدر انجمن احمدیہ کو اختیار ہو گا۔کہ مجلس کار پرداز کی سفارش پر ( قاعدہ نمبر 68) ایسی وصیت کو منسوخ کر دے۔ہر موصی کیلئے لازم ہوگا کہ وہ سالانہ فارم اصل آمد حسب نمونہ جدول ج پر کر کے دفتر کو بھجوائے۔فارم اصل آمد نہ آنے کی صورت میں صدر انجمن احمدیہ کو اختیار ہوگا کہ وہ مناسب تنبیہہ کے بعد موصی کو بقایا دار قرار دے کر موصی کے خلاف مناسب تادیبی کاروائی کرے جو منسوخی وصیت بھی ہوسکتی ہے۔( قاعدہ نمبر 69) ایسے موصی ورثاء جو مدفون موصیوں کے بقایا جات وعدہ کے مطابق ادا نہیں کریں گے اور نہ ہی حالات بیان کر کے مہلت حاصل کریں گے۔ان کی وصایا منسوخ کر دی جائیں گی۔۱۲۔( قاعدہ نمبر 71) --