مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 158 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 158

مالی قربانی 158 قواعد وصیت ایک تعارف وصیت کنندہ کیلئے یہ بھی لازم ہوگا کہ بوقت وصیت چندہ شرط اول کے علاوہ اخراجات اعلان ( قاعدہ نمبر (29) وصیت بھی ادا کرے۔بوقت منظوری وصیت کننده کی قبل از وصیت اخلاقی و دینی حالت کے علاوہ قبل از وصیت مالی حالات کو بھی اسی نقطہ نظر سے مدنظر رکھا جائے گا۔کہ نمایاں مالی قربانی کا عصر اور وصیت کی روح مجروح نہ ہوتی قاعدہ نمبر 35 ہو۔اگر کوئی وصیت کا ایسا خواہش مند نا گہانی وفات پا جائے جو قبل از وفات وصیت کروانے کی کاروائی کا آغاز کر چکا ہو۔تو خواہ فارم وصیت پر نہ بھی کیا جاسکا ہو۔قابل اعتماد گواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی وصیت کی پس از مرگ منظوری کا معاملہ زیر غور لایا جا سکتا ہے۔بشرطیکہ۔1۔مرحوم وصیت کی دیگر شرائط پر پورا اترتا ہو اور یہ توقع کی جاسکتی ہو کہ اگر نا گہانی وفات حائل نہ ہوتی تو اس کی وصیت منظور کرنے کی راہ میں کوئی روک نہ ہوتی۔ہوں۔2۔مرحوم کے وارثان اس کے ترکہ پر حصہ وصیت ادا کرنے اور بلا تاخیر عملدرآمد پر بشرح صدر آمادہ 3۔قرآئن کسی منفی احتمالات کی طرف اشارہ نہ کرتے ہوں۔مثلاً ل لمبے عرصے تک توفیق کے باوجود وصیت کی طرف متوجہ نہ ہونا۔ب۔لمبی معقول مہلت کے باوجود محض خواہش کا اظہار کرنا او قطعی اقدام کی طرف متوجہ نہ ہونا۔ج۔وصیت کی کاروائی کا آغاز اس وقت کرنا جب نسبتا کم مالی قربانی سے وصیت ہو سکتی ہو۔د۔دینی حالت کا کسی پہلو سے واضح طور پر داغدار ہونا۔مثلاً (i) نمازوں میں غفلت۔(ii) عام چندوں میں اعلیٰ معیار کے مطابق نہ ہونا۔(iii) نظام جماعت سے وابستگی اور تعلق میں کمزوری وغیرہ۔قاعدہ نمبر 43) عام حالات میں جائیداد کی وصیت پر موصی کی وفات کے بعد عمل درآمد ہوگا اور حصہ جائیدا دترکہ پر واجب الادا ہو گا۔قاعدہ نمبر 44