مالی قربانی ایک تعارف — Page 129
مالی قربانی 129 ایک تعارف اور اس کی جان پر آبنی ہے اس کی جان بچانے کیلئے محض اعلائے کلمہ اسلام کیلئے سود کا روپیہ خرچ نہیں ہوسکتا ؟ میرے نزدیک یقیناً خرچ ہو سکتا ہے اور خرچ کرنا چاہیئے۔" الحاکم قادیان ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ ۷۷) حضور فرماتے ہیں:۔"میرا امذ ہب جس پر خدا نے مجھے قائم کیا ہے اور جو قرآن شریف کا مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس عیال اطفال دوست عزیز کے واسطے اس سود کو مباح نہیں کر سکتے۔بلکہ یہ پلید ہے اور اس کا گناہ (استعمال ) حرام ہے۔لیکن ضعف اسلام کے زمانہ میں جب کہ دین مالی امداد کا سخت محتاج ہے اسلام کی مددضرور کرنی چاہیئے۔ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ صرف اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سود کے روپے کو خرچ کرلے تو کیا قباحت ہے۔یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے۔جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے۔کیونکہ دراصل سود کا عام حکم تو حرمت ہی ہے۔" (البدر قادیان، ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ ۷۷-۷۷۱ ) ایک صاحب کا خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا کہ جب بنکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کی حالت کو مد نظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے تو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی ، قومی ہلکی، تجارتی وغیرہ اضطرار بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں، فرمایا:۔اس طرح سے لوگ حرام خوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بنگ کا سود بہ سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے۔بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہونا بتلایا