مالی قربانی ایک تعارف — Page 125
مالی قربانی 125 ایک تعارف اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑا دے ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے۔اگر چھوڑیں تو گزارہ نہیں چلتا۔دوکانداروں، عطاروں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سال ہا سال تک بیچتے ہیں دھوکا دیتے ہیں، ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذر کرتے ہیں کہ گزارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکھٹا کر کے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گذارہ نہیں چلتا۔حالانکہ مومن کیلئے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔یہ تمام راستبازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خودراہ نکال دیتا ہے۔لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسہ ان کو حرام کے دروازے پر ہے۔ویسا خدا پر نہیں۔خدا پر ایمان۔یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اور عجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوئے۔" البدر قادیان ، ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵-۷ ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ سودی روپے کے لینے اور دینے کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔" ہمارے نزدیک سودی روپیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔مومن وہ ہوتے ہیں جو اپنے ایمان پر قائم ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا خود متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔اس قدر مومن دنیا میں گذرے ہیں وہ کبھی ایسی مشکلات میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ يَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ اللہ تعالیٰ ہر ضیق سے ان کو نجات دیتا ہے۔ہاں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ایک نمونہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ جب کسی سے کچھ روپیہ قرض لیتے ہیں تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیتے۔اس طریق پر کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَان پر عمل ہو جاوے۔اور یہ جوزائد دے