مالی قربانی ایک تعارف — Page 124
مالی قربانی 124 ایک تعارف تو جو (لین دین) وہ پہلے کر چکا ہے اس کا نفع اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔اور جو (لوگ) پھر ( وہی کام ) کریں تو وہ (ضرور) آگ ( میں پڑنے ) والے ہیں۔وہ اس میں پڑے رہیں گے۔" پھر فرمایا:- (البقرہ : ۲۷۶) "اے ایمان دارو! تم (اپنے مال پر ) سود جو ( مال کو ) بے انتہا بڑھاتا ہے۔مت کھاؤ۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔" (ال عمران : ۱۳۱) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ضرورت پر سودی روپیہ لے کر تجارت وغیرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا :۔"حرام ہے۔ہاں اگر کسی دوست اور تعارف کی جگہ سے روپیہ لیا جاوے اور کوئی وعدہ اس کو زیادہ دینے کا نہ ہو، نہ اس کے دل میں زیادہ لینے کا خیال ہو۔پھر اگر مقروض اصل سے کچھ زیادہ دے دے تو وہ سود نہیں ہوتا۔بلکہ یہ تو هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ہے۔اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ضرورت سخت ہوا اور سوائے سود کے کام نہ چل سکے تو پھر اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی حرمت مومنوں کے واسطے مقرر کی ہے اور مومن وہ ہوتا ہے جو ایمان پر قائم ہو۔اللہ تعالیٰ اس کا متوتی اور متکفل ہوتا ہے اسلام میں کروڑ ہا ایسے آدمی گزرے ہیں جنہوں نے نہ سود لیا نہ دیا آخر ان کے حوائج بھی پوری ہوتی رہیں کہ نہ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ لو نہ دو۔جو ایسا کرتا ہے وہ گویا خدا کے ساتھ لڑائی کی تیاری کرتا ہے۔ایمان ہو تو اس کا صلہ خدا بخشتا ہے۔ایمان بڑی بابرکت شئے ہے۔اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِ شَيْءٍ قَدِير۔اگر اسے خیال ہو کہ پھر کیا کرے تو کیا خدا کا حکم بھی بے کار ہے۔اس کی قدرت بہت بڑی ہے۔سود تو کوئی شئے ہی نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا۔