مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 123 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 123

مالی قربانی 123 ایک تعارف مداشاعت اسلام ایسے احباب جو اپنی رقوم کو اپنے کاروبار میں استعمال کرنے کی بجائے ان رقوم کے ذریعہ ایسے ادارہ جات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جو ان رقوم پر سرمایہ کاری کے نتیجہ میں سود یا Interest ادا کرتے ہیں مثلاً بنک ، ڈاکخانہ اور سرمایہ کاری کے دیگر ادارہ جات، یا ایسے احباب جنہیں اپنے کاروبار کیلئے بنک میں رقوم جمع کروانے کی مجبوری ہے، ان سب احباب کو ایسے ادارہ جات کی جانب سے ان کی رقوم پر سود یا Interest کی جو رقم ملتی ہے اس رقم کا ذاتی استعمال کرنا یا اس میں سے کسی مد میں چندہ دینا ہرگز درست اور جائز امر نہیں۔اس بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد " مد نظر رکھنا چاہیئے:۔بنک سے ملنے والے INTEREST کو اس طرح انفرادی طور پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ کسی کا نفس کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کے غلط استعمال کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ایسی رقم مرکز کو ادا کرنی چاہیئے۔مرکز از خودا سے اشاعت اسلام کیلئے خرچ کرے گا۔اگر کوئی ایسی رقم بطور چندہ اشاعت اسلام مرکز کو ادا نہیں کرنا چاہتا تو بے شک نہ کرے لیکن اس طرح انفرادی طور پر استعمال کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔" ( مکتوب مؤرخه ۰۲ / مارچ ۱۹۹۴ء) سود کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (بالکل) اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس پر شیطان ( یعنی مرض جنوں) کا سخت حملہ ہو۔یہ (حالت) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے (رہتے) ہیں کہ (خرید و ) فروخت ( بھی تو) بالکل سود (ہی) کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے (خرید و فروخت کو جائز قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔سو ( یاد رکھو کہ ) جس (شخص) کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت ( کی بات ) آئے اور وہ (اسے سن کر خلاف ورزی سے ) باز آجائے