مالی قربانی ایک تعارف — Page 118
مالی قربانی 118 ایک تعارف اس منصو بہ پر احباب جماعت نے لبیک کہا اور اس میں چندہ ادا کیا اور اب بھی ادا کیا جارہا ہے۔اس منصوبہ کے ذریعہ مرکز میں ایک سو کوارٹر تعمیر کئے گئے ہیں، جن میں غریب اور مستحق افراد کو رہائش مہیا کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بہت سے غریب احباب جماعت کو جزوی طور پر گھروں کی تعمیر میں بھی مدد دی جارہی ہے نیز ان کوارٹروں کی مرمت اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔اس مقصد کیلئے دیا جانے والا چندہ ، چندہ بیوت الحمد کہلاتا ہے۔یتامی فنڈ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے احمدیت کی دوسری صدی جو غلبہ اسلام کی صدی ہے کے استقبال کے طور پر اعلان فرمایا کہ جماعت ایک سو یتیم بچوں کی کفالت کرے گی۔اس طرح جہاں ایک طرف یتیم بچوں کی تلاش شروع کی گئی جن کی کفالت کا انتظام کرنا تھاوہاں دوسری طرف اس سلسلہ میں مخلصین کو اس فنڈ میں چندہ دینے کی تحریک کی گئی۔الہی منشاء تھا کہ جوں جوں اس سلسلہ میں جماعتوں کی طرف سے یتامیٰ کے کوائف ملے اور ان کی کفالت کے سلسلہ میں خرچ ہوا، ساتھ کے ساتھ اس ضرورت کے مطابق بلکہ اس سے زیادہ رقوم کی آمد کا سلسلہ جاری ہو گیا اور اب یہ شکرانہ صرف ایک سو یتامی کی کفالت تک محدود نہ ہے بلکہ گھرانوں کی تعداد سو سے زیادہ اور یتامی کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔یہ خوش کن امر بھی سامنے آیا ہے کہ ان یتامی اور گھرانوں میں جونہی کوئی بچہ برسر روزگار ہوتا ہے اور اپنے خاندان کا گزارہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ بچہ اور گھرانہ شکریہ کے ساتھ وظیفہ یا مد دلینا بند کر وا دیتا ہے۔اس تحریک میں بعض احباب نے اندازاً اوسط خرچ فی کس 500 تا 1500 روپے ماہوار کے حساب سے چندہ دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور بعض بالمقطع رقم بطور چندہ کے ادا کرتے ہیں۔اس تحریک کے سیکرٹری فی الحال نائب ناظر ضیافت ربوہ ہیں، جن سے بذریعہ وکالت مال لندن خط و کتابت کر کے مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔یامی کی کفالت کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسی الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :۔" اب میں باقی دنیا کے امراء کو بھی کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں احمدی یتامی کی