مالی قربانی ایک تعارف — Page 117
مالی قربانی 117 ساتھ ایسے غرباء ہیں جن کو سر چھپانے کی جگہ میسر نہیں۔۔ہمارا فرض ہے کہ ان کیلئے کچھ نہ کچھ کریں۔جتنی توفیق ہے، تھوڑی سہی تھوڑی کریں لیکن اللہ تعالیٰ کی حمد کا عملی صورت میں ایک یہ اظہار بھی کریں کہ ہم اس کے بندوں کے گھروں کی طرف کچھ توجہ دے رہے ہیں۔ویسے تو یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اس کو پورا نہیں کر سکتیں ، مگر مجھے اللہ کے فضل سے توقع ہے کہ چونکہ جماعت احمد یہ اس زمانہ میں وہ واحد جماعت ہوگی جو محض رضاء باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام شروع کرے گی ، اس لئے اللہ اس میں برکت دیگا اور کروڑوں روپوں کے مقابل پر ہمارے چند روپوں میں زیادہ برکت پڑ جائے گی اور اس کے نتیجہ میں جماعت کے غرباء کا ایمان بھی ترقی کرے گا اور اللہ کے فضل بھی ان پر نازل ہوں گے۔" اس تحریک کی اہمیت اور اس میں حصہ لینے والوں کو نصائح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اس تحریک کیلئے چونکہ انتظار میرے بس میں نہیں رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اتنے زور سے یہ تحریک میرے دل میں ڈالی کہ میں نے مجبوراً اس موقعہ پر اس کا اعلان کر دیا۔اس لئے اس شرط کے ساتھ جماعت کے دوسرے احباب کو اس میں شمولیت کا موقعہ دیا جائے گا کہ اول تو وہ توازن کو بگڑنے نہ دیں۔دل تو چاہے گا کہ پہلی تحریک ہے سب کچھ اس راہ میں پیش کر دیں۔یہ ایک مومن کے قلب کی طبعی حالت ہوتی ہے لیکن یاد رکھیں اور بہت سی تحریکات اللہ کی راہ میں آنے والی ہیں اس لئے وہ ان کیلئے بھی اپنے ذہن میں گنجائش رکھیں اور توازن برقرار رکھتے ہوئے جو کچھ پیش کرنے کی خدا سے توفیق پائیں اس پر راضی ہوں۔دل تو چاہے گا کہ اور بھی زیادہ پیش کریں لیکن اپنے آپ کو سنبھال کر پیش کریں اور دوسرے یہ کہ صرف وہ پیش کریں جو خدا تعالیٰ کو حاظر و ناظر جان کر خود یہ سمجھتے ہیں، یہ فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے کہ وہ اپنے لازمی چندوں میں پورے ہیں، شرح کے مطابق دیتے ہیں حصہ وصیت بھی اور چندہ عام بھی۔جن کو ابھی تک یہ توفیق نہیں ملی ، یہ حوصلہ عطا نہیں ہواوہ ہرگز ایک آنہ بھی اس تحریک میں نہ دیں۔" ایک تعارف