مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 116 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 116

مالی قربانی 116 ایک تعارف امانت تربیت حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی ہجرت کے بے شمار انعامات میں سے ایک عظیم الشان انعام جماعت احمدیہ کو ایم۔ٹی۔اے کی صورت میں ملا۔1991ء میں ایم۔ٹی۔اے کے آغاز میں اس کے پروگرام روزانہ چند گھنٹوں کیلئے نشر ہونا شروع ہوئے، پھر چند سال بعد یہ پروگرام چوبیس گھنٹے کیلئے شروع ہو گئے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایم۔ٹی۔اے ڈیجیٹل لائن پر ۲۴ گھنٹے ساری دنیا کیلئے جاری ہے اور روز بروز ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔حضرت خلیفتہ مسیح کی آواز پر لبیک کہنے والوں نے اس مد میں بھی فقید المثال قربانیاں پیش کیں۔یہ سارے کا سارا نظام خلافت کے گرد گھومتا ہے اور حضور کا دیدار کرنے والے عاشقوں نے اس نظام کے احسان اور شکرانے کے طور پر دل کھول کر اپنے اموال پیش کئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نظام سے ساری جماعت کو بے انتہا فوائد پہنچ رہے ہیں جس میں افراد جماعت کی تربیت کے ساتھ ساتھ اسکے نتیجہ میں تبلیغ میں بھی بے انتہا کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں۔اس مد میں دیا گیا چندہ امانت تربیت کہلاتا ہے۔اس روحانی مائدہ پرمشتمل خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہونے والے نظام کے شکرانہ کے طور پر اپنی جماعت کے تمام افراد، احباب و خواتین اور بچگان کو اس کا حصہ دار بنائیں تا کہ اس نظام میں ذاتی شمولیت کے ساتھ ایک وابستگی اور لطف کا احساس ہو۔یہ چندہ سارے کا ساراسنٹرل ریزرو میں جمع ہو گا۔مقامی طور پر اس میں سے کسی خرچ کی اجازت نہیں ہے۔☆ بیوت الحمد منصوبہ حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹ اکتو بر۱۹۸۲ء میں جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے استقبال اور پہلی صدی میں ہونے والے خدا تعالیٰ کے فضلوں پر شکرانے کے طور پر ایک سوغریب گھرانوں کو مفت رہائش کی سہولت مہیا کرنے کیلئے ایک منصوبہ " بیوت الحمد" کے نام سے جماعت کے سامنے پیش فرمایا، اس منصوبہ کا اعلان فرماتے ہوئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔پاکستان میں آجکل اقتصادی حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ بہت کثرت کے "