مالی قربانی ایک تعارف — Page 97
مالی قربانی 97 ایک تعارف " چنده شرط اول حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کیلئے چندہ داخل کرے اور یہ چندہ محض انہیں لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔لیکن اگر خدا نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔اس صورت میں ایک انجمن چاہیئے۔کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتاً جمع ہوتا رہے گا اعلائے کلمہء اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰۔صفحہ ۳۱۸) -6*6- چنده اعلان وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔"ہر ایک صاحب جو شرائط رسالہ الوصیت کی پابندی کا اقرار کریں۔ضروری ہوگا کہ وہ ایسا اقرار کم سے کم دو گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے زمانہ قائمی ہوش وحواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح سے لکھیں کہ وہ اپنی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کا دسواں حصہ اشاعتِ اغراض سلسلہ احمدیہ کیلئے بطور وصیت یا وقف دیتے ہیں۔اور ضروری ہوگا کہ وہ کم سے کم دو اخباروں میں اس کو شائع کر دیں۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ - صفحه ۳۲۳) نوٹ:۔اس اشاعت کیلئے مقررہ شرح سے جو ادائیگی کی جاتی ہے اس کو چندہ اعلان وصیت کہتے ہیں۔