مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 16 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 16

مالی قربانی 16 مال خود بخود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ملتا ہے " یہ ظاہر ہے، کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمھارے لئے ممکن نہیں۔کہ مال سے بھی محبت کرو، اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا۔تو میں یقین رکھتا ہوں، کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا۔بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے۔وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہیئے۔تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمھاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو، بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کیلئے بلاتا ہے۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۴۹۷-۴۹۸) نو مبائعین سے چندہ وصول کرنے کے متعلق تاکیدی ارشاد " آئے دن صد ہا آدمی بیعت کر کے چلے جاتے ہیں۔لیکن دریافت کرنے پر بہت ہی کم تعداد ایسے اشخاص کی ہے جو متواتر ماہ بہ ماہ چندہ دیتے ہیں۔جو شخص اپنی حیثیت و توفیق کے مطابق اس سلسلہ کی چند پیسوں سے امداد نہیں کرتا اس سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے۔اور اس سلسلہ کو اس کے وجود سے کیا فائدہ؟ ایک معمولی انسان بھی خواہ کتنی شکستہ حالت کا کیوں نہ ہو۔جب بازار جاتا ہے تو اپنی قدر کے موافق اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے کچھ نہ کچھ لاتا ہے تو پھر کیا یہ سلسلہ جو اتنی عظیم الشان اغراض کیلئے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لائق بھی نہیں کہ وہ اس کیلئے چند پیسے بھی قربان کر سکے۔دنیا میں آج تک کون سا سلسلہ ہوا ہے یا ہے جو خواہ دنیوی حیثیت سے ایک تعارف