مالی قربانی ایک تعارف — Page 175
مالی قربانی ضرورت نہیں۔" متفرق سوالات 175 ایک تعارف سوال: اگر کسی شخص کی کوئی آمد نہ ہے تو کیا وہ وصیت کر سکتا ہے؟ اگر کر سکتا ہے تو کس شرح سے اپنی وصیت ادا کرے گا ؟ جواب:۔ایسا شخص جس کی کسی قسم کی آمد یا جائیداد نہ ہے۔اس کے لئے وصیت کرنا ضروری نہیں ہے۔تاہم اگر کسی شخص کے پاس مناسب جائیداد ہے لیکن آمد کا کوئی ذریعہ نہ ہے ( مثلاً شادی شدہ گھر یلو خاتون ) تو وہ اپنے رہن سہن کے لحاظ سے کوئی ایسی مناسب رقم بطور جیب خرچ معین کر سکتی ہے جس پر وہ اپنا چندہ ادا کر سکے۔سوال: اگر کوئی شخص جس نے کسی وجہ سے چندہ عام میں معافی حاصل کر رکھی ہو۔کیا وہ بعد میں وصیت کر سکتا ہے؟ جواب:۔اگر کسی دوست نے قبل از وصیت چندہ عام میں اپنی کسی مجبوری کے تحت حضرت خلیفہ المسیح سے معافی حاصل کی ہو اور پھر وہ چندہ عام با قاعدہ ادا کر رہے ہوں، تو وصیت کرنے میں کوئی قاعدہ مانع نہیں۔سوال: کیا مقروض کی حالت میں وصیت کرنا جائز ہے؟ جواب:۔اگر وصیت کنندہ کی آمد اور جائیداد کے ساتھ دیگر شرائط مکمل ہیں تو وصیت کرنے میں کوئی قاعدہ روک نہ ہے۔اور قرض وصیت کی راہ میں روک نہ ہے۔کیونکہ قرضہ کی زندگی میں تو کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مقروض کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اگر تو قرض لے کر کوئی جائیداد بنائی ہے جس سے آمد ہو رہی ہے یا قرضہ لے کر کوئی کاروبار شروع کیا ہے اور اس سے آمد ہو رہی ہے تو ایسی صورت میں وصیت کر سکتے ہیں۔لیکن اگر کسی فرد جماعت کی اپنی کوئی آمد اور جائیداد نہیں اور اپنے مستقل گزارہ کے لئے قرض پر انحصار کر رہا ہے تو ایسے شخص پر وصیت کرنالازم نہیں۔اور اس کی وصیت منظور نہیں ہوسکتی۔سوال:- فارم وصیت پر بطور گواہ کس کے دستخط ہونے ضروری ہیں۔جواب:۔روئیداد اجلاس اول مجلس معتمدین صدر انجمن احمد یہ منعقدہ ۲۹ جنوری ۱۹۰۶ ء کے تحت ہدایات نمبر ۳۔(ب) کے تحت درج ہے، کہ