ملفوظات (جلد 9) — Page 77
تبلیغ اسلام کے یورپ و امریکہ وغیرہ ممالک میں انہی ذرائع سے شائع ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بیشک اس سے پہلے کسی مامور من اللہ کے لیے طیّ الارض واقع نہیں ہوا۔اور نہ یہ اسباب ظاہر ہوئے تھے۔دوسرا جملہ اس حدیث میں سے مولوی صاحب نے یہ پیش کیا۔مَنْ مَّسَّ ابْنَ مَرْیَمَ یَکُوْنُ لَہٗ اَرْفَعُ قَدْرًا وَّ یُعْظَمُ مَسُّہٗ یعنی جو شخص کہ چھوئے گا مسیح موعود کو اس کی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک بہت بلند ہوگی اور اس کا مس کرنا و چھونا یعنی اس کے حلقہ خادمین میں داخل ہونا خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت رکھتا ہے۔سبحان اللہ! حضرت مسیح موعودؑ کو اس حدیث کی خبر بھی نہیں اور قریباً اکتیس برس کا الہام مطبوعہ براہین احمدیہ میں درج ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ اس الہام کا مضمون قریباً حدیث مذکورہ میں سے ملتا ہے۔۱ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۷ء رِیا حضرت اقدس بوقت صبح مع احباب باہر سیر کو تشریف لے جاتے ہیں۔آج جب حضرت اقدس باہر تشریف لائے تو پہلے ایک بھائی نو مسلم نے دعا کے لیے عرض کی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایاکہ حضور یہ شخص اپنی قوم میں واعظ بھی ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔وعظ و اعمال صالحہ کا فائدہ تب ہی ہوتا ہے کہ محض خدا کے لیے ہو۔اس میں کوئی غرض نہ ہو۔ریائی عمل کو خدا تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔اگر عمل میںکسی اور کو شریک سمجھا جاوے تو خدا کئے ہوئے عمل کو ردّ کر دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جس کے لیے تم نے یہ عمل کیا ہے اس سے اس کا ثواب بھی لو۔۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۴