ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 68

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد نهم اللہ تعالیٰ اپنے مصالح کو خوب جانتا ہے۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہمیں مارا اور مسجد سے نکال دیا۔ میں یہی جواب دیتا ہوں کہ اگر تم جواب دو تو میری جماعت میں سے نہیں ۔ تم کیا چیز ہو۔ صحابہ کی حال ما حالت کہ ان کے کس قدر خون گرائے گئے ۔ پس تمہارے لیے اُسوہ حسنہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے۔ دیکھو! وہ کیسے دنیا سے باہر ہو گئے تھے۔ انسان میں جس قدر جوش ہوتے ہیں وہ دنیا کے لیے ہی ہوتے ہیں ۔ کسی ہنگامہ کی خبر، دنیا کا مال ، عزت یا اولا د خدا سے آتی ہے۔ اس کے سوا جھوٹی عربتوں کا کیا ہے۔ نبیوں سے بڑھ کر عزت کسی کی نہیں ۔ مگر دیکھو! انہیں کیسے کیسے دکھ دیئے گئے ۔ نماز میں ان پر گندے گوبر ڈالے گئے۔ قتل کے ارادے کئے گئے اور آخر مکہ سے نکالا گیا لیکن خدا تعالیٰ کے حضور آپ کی وہ عزت اور عظمت ہے کہ خدا نے فرما یا قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : ۳۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو خدا تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ بغیر اس کے یہ مقام مل ہی نہیں سکتا ۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ اطاعت کا کام ہے کہ دشمن کا ایسا دشمن بنے کہ جب تک اسے پیس نہ لے اور اسے تکلیف اور دکھ نہ پہنچا لے صبر ہی نہ کرے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ گالی سے مشتعل ہو جاتا ہے مگر اس سے ترقی کرنی چاہیے۔ جو دکھ دیتے ہیں انہیں سمجھو کہ وہ کچھ چیز نہیں ہے اگر تم پر خدا راضی ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ ناراض ہے تو خواہ ساری دنیا تم سے خوش ہو وہ بے فائدہ ہے ۔ لے بدر سے۔ دراصل کوئی شخص عزت کو پا نہیں سکتا جب تک کہ آسمان سے اس کو عزت نہ ملے ۔ سچی اور پاک عزت خدا سے ہی ملتی ہے ۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۵ ) کے بدر سے۔ ” تم کو جو دکھ اور گالیاں دی جاتی ہیں وہ کچھ چیز نہیں۔ اس کی ہرگز پروا نہ کرو۔ اور انسان پروا نہ کرو۔ اور انسانوں کے راضی رکھنے کے پیچھے نہ پڑو۔ بلکہ اپنے خدا کو راضی کرو ۔ لا اله الا اللہ کا یہی مضمون ہے اگر تم لوگوں کو راضی رکھنے کے واسطے ان کے ساتھ مداہنت سے پیش آؤ گے تو اس میں تم کو ہرگز کامیابی نہیں ہوگی ۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۵)