ملفوظات (جلد 9) — Page 69
یہ بھی یاد رکھو کہ اگر تم مداہنہ سے دوسری قوموں کوملو تو کامیاب نہیں ہو سکتے۔خدا ہی ہے جو کامیاب کرتا ہے اگر وہ راضی ہے تو ساری دنیا ناراض ہو تو پروا نہ کرو۔ہر ایک جو اس وقت سنتا ہے یاد رکھے کہ تمہارا ہتھیار دعا ہے اس لیے چاہیے کہ دعا میں لگے رہو۔یہ یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اور حیلہ۔اس کے لیے ایک ہی راہ اور وہ دعا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے۔اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے۔یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں۔اس کا وعدہ ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے۔وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔اس لیے اس سے پرے نہیں جا سکتے۔اصل دعا دین ہی کی دعا ہے۔۱ لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہوسکے گی۔۲ یہ غلطی ہے۔بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آسکتا ہے۔اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔دیکھو! پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا۔(اس کے بعد آپؑنے نہایت درد سے ایک لمبی دعا کی۔ایڈیٹر) ۳ بدر سے۔’’اصل دعا دین کے واسطے ہے اور اصل دین دعا میں ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵) ۲بدر سے۔’’اس سے مت گھبراؤ کہ ہم گناہ سے ملوث ہیں گناہ اس مَیل کی طرح ہے جو کپڑے پر ہوتی ہے اور دور کی جاسکتی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵،۱۶) ۳الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ تا ۱۰،۱۵