ملفوظات (جلد 9) — Page 66
بات بات پر لڑائی ہوتی اور پھر اگر ایسے لڑنے والے ہوتے اور ان میں صبر برداشت نہ ہوتی تو پھر ان میں اور ان کے غیروں میں کیا امتیاز ہوتا؟ ہمارا مذہب یہی ہے کہ ہم بدی کرنے والے سے نیکی کرتے ہیں۔یہی گھر جو سامنے موجود ہے اس کے متعلق میرے لڑکے مرزا سلطان احمد نے مقدمہ کیا تھا۔باوجودیکہ میرے لڑکے نے مقدمہ کیا تھا اور یہ سخت ایذا دینے والے دشمن تھے مگر میں نے کہا کہ میں اظہار نہیں دوں گا۔کیا اس وقت میں نے سلطان احمد کی رعایت کی تھی یا ان کی؟ اور ان کی دشمنیوں کا خیال رکھا یا ان کے ساتھ نیکی کی؟ یہ ایک ہی بات نہیں۔جب جب ان کو میری مدد کی ضرورت ہوئی میں نے ان کو مدد دی ہے اور دیتا رہتا ہوں۔جب ان کو مصیبت آئی یا کوئی بیمار ہوا تو میں نے کبھی سلوک اور دوا دینے سے دریغ نہیں کیا۔ایسی حالت میں کہ ہم ان سے سلوک کرتے ہیں اور ان کی سختیوں پر صبر کرتے ہیں تم ان کی بد سلوکیوں کو خدا پر چھوڑ دو۔وہ خوب جانتا ہے اور اچھا بدلہ دینے والا ہے۔میں تمہیں بار بار کہتا ہوں کہ ان سے نرمی کرو اور خدا سے دعا کرو۔مگر یہ بھی یاد رکھو کہ دعائیں منظور نہ ہوں گی جب تک تم متقی نہ ہو اور تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ کی دو قسم ہیں۔ایک علم کے متعلق دوسرا عمل کے متعلق۔علم کے متعلق تو میں نے بیان کر دیا کہ علوم دین نہیں آتے اور حقائق معارف نہیں کھلتے جب تک متقی نہ ہو اور عمل کے متعلق یہ ہے کہ نماز، روزہ اور دوسری عبادات اس وقت تک ناقص رہتی ہیں جب تک متقی نہ ہو۔اس بات کو بھی خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں اوّل یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔نہ اس کی ذات میں نہ صفات میں نہ عبادت میں۔اور دوسرے نوعِ انسان سے ہمدردی کرو۔اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اوررشتہ داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو۔آدم زاد ہو اور خدا کی مخلوق میں کوئی بھی ہو۔مت خیال کرو کہ وہ ہندو ہے یا عیسائی۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا انصاف اپنے ہاتھ میں لیا ہے وہ نہیں چاہتا کہ تم خود کرو۔جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدر تم سے خوش ہوگا۔اپنے دشمنوں کو تم خدا کے حوالہ کرو۔قیامت نزدیک ہے۔تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہیے۔