ملفوظات (جلد 9) — Page 61
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ جلد نهم پھر قرآن شریف میں ایک اور نشان بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ میں طاعون کثرت سے پھیلے گا۔ احادیث میں بھی یہ پیشگوئی تھی ۔ قرآن مجید میں لکھا تھا اِن مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا (بنی اسراءيل: ۵۹) اور دوسری جگہ صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ ایک زمینی کیڑا ہوگا ۔ (دابۃ الارض ) آخری زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے مریں گے۔ اب کوئی بتائے کہ کیا اس نشان کے پورا ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہے؟ پھر اس آخری زمانے کے نشانات میں بتایا گیا تھا کہ نہریں نکالی جاویں گی اور نئی آبادیاں ہوں گی ۔ پہاڑ چیرے جاویں گے ۔ کتابوں اور اخباروں کی اشاعت ہوگی ۔ اور یہ بھی لکھا تھاوَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ ( التكویر :(۵) یعنی ایک ایسی نئی سواری نکلے گی جس کی وجہ سے اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور ایسا ہی حدیث میں بھی فرمایا گیا تھا لیتركُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا - اب دیکھ لو کہ ریل کے اجرا سے یہ پیشگوئی کیسی صاف صاف پوری ہوگئی اور عنقریب جب مکہ تک ریل آئے گی تو اور بھی اس کا نظارہ قابل دید ہوگا ۔ جب وہاں کے اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ اس جگہ محض میرے ساتھ بخل کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر بھی حملہ کیا اور آپ کی پیشگوئیوں کی تکذیب کی ۔ وہ امر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت ثابت ہوتی تھی ۔ میری عداوت کی وجہ سے اسے مٹانا چاہا ہے۔ مجھ سے عداوت ہی سہی لیکن آپ کی پیشگوئی کو کیوں پامال کر دیا ؟ میں سچ کہتا ہوں کہ طاعون اور ریل کے اجرا وغیرہ کی سے پیشگوئیوں کا محض اس وجہ سے انہوں نے انکار کیا کہ ان سے میری سچائی ثابت ہوتی تھی جس معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہیں کوئی تعلق محبت کا باقی نہیں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ دشمن کو آزار پہنچانے کے لیے محبوب کے نشانات کو پامال کر دیا جاوے مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات اور نشانات کو جو اس زمانہ میں ظاہر ہوئے پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو نشانات اور معجزات آپؐ کے وقت میں ظاہر ہوئے وہ اس زمانہ کے لوگوں تک محدود تھے اور اس زمانہ کے لیے وہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ“ کے مصداق تھے۔ لیکن چونکہ آپ کا و