ملفوظات (جلد 9) — Page 58
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ جلد نهم اس نے اپنے فضل سے اس سلسلہ کو اسی لیے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر گواہ ہو اور تا خدا کی معرفت بڑھے اور اس پر ایسا یقین پیدا ہو جو گناہ اور گندگی کو بھسم کر جاتا ہے اور نیکی اور پاکیزگی پھیلاتا ہے۔ یہ موجودہ زمانہ کی حالت پیر زمانہ ست ابتلا کا زمانہ ہے۔ ہر قسم کے جرائم کا مجموعہ ہے۔ ہر قسم کی ضلالت پورے جوش میں ہے۔ وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ہر قسم کے عیب اور معاصی ان میں پائے جاتے ہیں ۔ زانی ، شرابی ، قمار باز ، بد دیانت اور خائن ہیں۔ قرضہ دیا جاوے تو دیتے نہیں ۔ عہد کرتے ہیں تو توڑتے ہیں ۔ دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے اور ظلم کرنے میں دلیر ہیں ۔ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں۔ غرض وہ کون سا عیب اور جرم ہے جو نہیں کرتے۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ ان کی وہی حالت ہو رہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قریش کی تھی۔ پھر اس قسم کے فسق و فجور کے ساتھ ایک اور خطرناک ابتلا دوسرے مذاہب کا ہے۔ وہ ہر قسم کے لالچ دے کر مرتد کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لاکھ مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں ۔ اب اندرونی طور پر تو مسلمانوں کی وہ حالت ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے اور بیرونی حالت وہ ہے جو عیسائی اور آریہ اور دوسرے مذاہب اسلام سے گمراہ کرنے کے لیے اپنی تدبیروں کو کام میں لا رہے ہیں اور اس طرح پر نہ اندرونی حالت کو دیکھ کر آرام آتا ہے اور نہ بیرونی حالت کو دیکھ کر کوئی راحت ہو سکتی ہے۔ پھر جبکہ اس حد تک اسلام کی حالت ہوگئی ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ١٠) بالکل غلط ہو گیا ؟ کیا حق نہ تھا کہ اس وقت اس کی حفاظت کی جاتی ؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ قوم پورا پورا صدمہ خریف کا اٹھا چکی ہے اب ضروری ہے کہ اسے ربیع کا حصہ ملے اور اسلام کے پاک درخت کے پھل پھول نکلیں ۔ سکھوں کے عہد میں اسلام کو جو صدمہ پہنچا ہے وہ بہت ہی نا گوار ہے۔ مساجد گرادی گئیں ۔ وحشیانہ حالت ایسی تھی کہ بانگ اور نماز تک سے روکا جاتا اور شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جسے قرآن آتا ہو۔ اپنی حالت بھی انہوں نے سکھوں کی سی بنالی۔