ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 51

دور ختم ہوجاتا ہے تو پھلدار درختوں کی شان ہی الگ ہوتی ہے۔ان میں پھل پھول شروع ہوجاتے ہیں جیسےیہ خریف اور ربیع کا دور جسمانی رنگ میں ہے اسی طرح پر روحانی طور پر دین میں بھی خریف اور ربیع کے دو سلسلے ہوتے ہیں۔ایک صدی جب گذر جاتی ہے تو لوگوں میں سستی اور غفلت اور دین کی طرف سے لاپروائی شروع ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں اور عملی اور اعتقادی غلطیاں ان میں پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ زمانہ غفلت اور لاپروائی کا خریف کے زمانہ سے مشابہ ہوتا ہے۔۱ اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوتا ہے اور یہ ربیع کا زمانہ ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک مجدّد کو بھیج دیتا ہے جو نئے سِر سے دین کو تازہ کرتا ہے۔پس یہ مجدّد کا اور اسلام کا تازہ بتازہ رہنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ اسی سے اس مذہب کی زندگی ثابت ہوتی ہے۔غور کرو کہ جن باغوں کے لیے خریف ہی ہو اور ربیع میں وہ اپنا کوئی نمونہ نہ دکھائیں اور ان میں تازگی اور شگفتگی پیدا نہ ہو۔پھر وہ کیا بچیں گے؟ آخر وہ تو کاٹ کر جلا لیے جائیں گے۔یہی حال اس وقت دوسرے مذاہب کا ہو رہا ہے۔ان پر خزاں کا اثر تو ہوچکا مگر ربیع کا دور اُن میں نہیں آتا۔اور خود ان کے ماننے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں وہ برکات، تاثیرات اور ثمرات جو ایک زندہ مذہب میں ہونے چاہئیں، نہیں ہیں تو پھر ان کی اپنی شہادت کے موجود ہوتے ہوئے کسی اور کی دلیل کی کیا حاجت ہے؟ ہندو مذہب اور عیسائیت ہندوؤں اور عیسائیوں کے مذہب پر تو خزاںکا تصرّف اور دخل ہوچکا۔ان میں کوئی تاثیرات اور نشانات نہیں ہیں۔میں علانیہ کہتا ہوں کہ ان میں زندہ مذہب کی برکات نہیںہیں۔اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو میں ہر سزا کے لیے جو وہ میرے لیے تجویز کریں تیار ہوں۔لیکن سچ یہی ہے کہ وہ روحانیت سے خالی ہیں اور بالکل مَر چکے بدر سے۔’’مرورِ زمانہ سے وہ اصلیت نہیں رہتی۔چھ سات دن میں تو بدن کا کپڑا بھی میلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱)