ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 52

ہیں۔ان میں زندگی کے آثار بالکل نہیں۔وہ بے حس و حرکت پڑے ہوئے ہیں اور ان مذاہب کے ماننے والے صرف ایک مُردہ کو لیے ہوئے ہیں کیونکہ وہ خدا جس پر کامل یقین اس سے سچا تعلق پیدا کر دیتا ہے اور جس تعلق سے پھر نجات ملتی ہے وہ ان کے نزدیک ایک وہمی ہستی ہے جس پر کوئی روشن دلیل نہیں ہے۔کیا کوئی ان میں ایسا شخص ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں نے خدا تعالیٰ کو خود بولتے سنا ہے؟ اس نےمیری دعاؤں کا جواب دیا ہے؟ یا اس نے اپنے فضل سے غیروں میں امتیاز کے لیے کوئی خارق عادت نشانات ایسے دیئے ہیں جس سے اس میں اور اس کے غیروںمیں امتیاز قائم ہو جاوے اگر کوئی ایسا شخص ہے تو اس کا نشان دو۔اور اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر اس اَمر کے تسلیم کرنے میں سب طرح سے کام نہ لو کہ فی الحقیقت یہ مذہب خزاں کا نشانہ ہوچکےہیں۔خدا تعالیٰ کی ہستی پر جیسی یہ واضح دلیل ہے کہ خود وہ اپنے بندے سے کلام کرے اور نشانات ظاہر ہوں اور کوئی دلیل اس کے مقابلہ میں نہیں آسکتی باقی صرف قیاسات ہیں۔آریوں کے عقیدہ کے موافق خدا کی ہستی پر کوئی دلیل نہیں وید کے رُو سے یہ طے شدہ اَمر ہے کہ اب کوئی نشان ظاہر نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا اور خواہ کوئی شخص کتنا ہی اسے پکارے اس کی پکار کا جواب اسے مل ہی نہیں سکتا۔کبھی ایک بار خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا مگر اب وہ خاموش ہے۔جب یہ اصول اور عقیدہ ہو تو بتاؤ کہ اس سے انسان کو خدا تعالیٰ کے وجود پریقین لانے کے لیے کیا تسلی ہو سکتی ہے اور اس سے وہ یقین کیوں کر پیدا ہو سکتا ہے جس سے انسان حقیقی نجات حاصل کرے۔یہ تو سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانے کے لیے دلائل کی حاجت ہے اگر مصنوعات اور مخلوقات اس کے وجود پر دلائل ہیں۔مثلاً یہ کہ چاند سورج بطور نشان کے ہیں تو ان کے عقیدہ کے موافق اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یہ دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کے مذہب کے موافق ارواح یعنی