ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 50

ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ جلد نهم سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا۔ اس ساری حالت کے نقشہ کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا ! دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی ۔ یہ نری کہانی نہیں ۔ یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔ قرآن مجید تو ایسی کتاب ہے کہ وہ ان میں پڑھی جاتی تھی اور یہ سب باتیں اس میں درج ہیں ۔ کفار سنتے تھے جہاں وہ اس کی مخالفت کے لیے ہر قسم کی کوششیں کرتے تھے۔ اگر یہ باتیں غلط ہوتیں تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیتے کہ یہ ہم پر اتہام اور الزام ہے۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ بہت ہی قابل غور مقام ہے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ہزاروں ہزار دلائل ہیں! لیکن یہ پہلو آپ کی حقانیت کے ثبوت میں ایک علمی پہلو ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور جس دلیل کو کوئی توڑ نہیں سکتا یا تو عربوں کی وہ حالت تھی اور یا یہ تبدیلی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا الله الله في اصحابی ۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے ناواقف اور اس سے دور پڑی ہوئی قوم کو اس مقام تک پہنچا دینا کہ پھر ان کی نظر ماسوی اللہ سے خالی ہو جاوے۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ پھر آپ کی حقانیت پر ایک اور دلیل بھی عجیب تر ہے جس کی نظیر دوسرے مذاہب میں پائی نہیں جاتی اور وہ آپ کے دیئے ہوئے مذہب کا زندہ مذہب ہونا ہے۔ زندہ مذہب وہ مذہب ہوتا ہے جس کی زندگی کے آثار ہر وقت ثابت ہوتے رہتے ہیں اس کے ثمرات اور برکات اور تاثیرات کبھی مردہ نہیں ہوتے بلکہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ پائے جاتے ہیں۔ جو درخت خریف کے دنوں میں ٹنڈ ہو جاتے ہیں اور کوئی پھل پھول اور پتا ان کا نظر نہیں آتا بلکہ نری خشک لکڑیاں نظر آتی ہیں انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ پھلدار درخت ہے۔ کے لیکن جب ربیع کا موسم شروع ہوتا ہے اور خزاں کا وہ لے بدر سے میرے اصحاب میں اللہ ہی اللہ ہے۔ ان کا رنگ ہی بدل گیا تھا۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) بدر سے ۔ اس وقت کوئی شناخت نہیں کر سکتا کہ ان درختوں کے درمیان پھل دینے والا زندہ درخت کون سا ہے ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) اور مردہ درخت کون سا ہے۔“ 66