ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 45

ملفوظات حضرت مسیح موعود لده جلد نهم اب خیال کرو کہ کا کس پر امن دور حکومت آنے سے کس قدر ترقیات ہوئی ہیں۔ کتابوں کی اشاعت ہی کی طرف اب خیال کرو کہ انگریزوں کا قدم کس قدر مبارک ہے اور ان کے دیکھو کیسی ہو رہی ہے۔ ایک شخص کئے شاہ نام کہنے لگا کہ میرے مرشد ہمیشہ صحیح بخاری کی تلاش میں رہا کرتے تھے اور پنج وقت اس کے ملنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی مایوس ہو کر رونے لگتے تھے اور اس قدر روتے کہ ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور اب یہ حال ہے کہ صحیح بخاری تین چار روپے کومل جاتی ہے۔ لیکن اس وقت یہ حال تھا کہ کسی ملاں کے پاس بھی اگر کوئی کتاب ہو تو بس کنز ، قدوری ، کا فیہ تک ہی اس کی تعداد ہو سکتی ہے اور اس وقت اس قدر خزانے نکل آئے ہیں کہ ان کو کوئی گن بھی نہیں سکتا ۔ غرض میں سچ کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کا قدم ڈالنا اس سلسلہ کے لیے بطور ا رہاص تھا۔ ارباص یہ ہوتا ہے کہ اصل چیز کے ظہور سے پہلے علامات ظاہر ہوں ۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ کیسے صاف صاف نشان ہیں۔ کتابوں کے ذخیرے نکل آئے ۔ ان کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہر قسم کی آسانیاں ہوگئیں ۔ ارکان مذہبی کے ادا کرنے میں کوئی روک اور مزاحمت نہیں ۔ کوئی بانگ اور نماز سے روک نہیں سکتا یا تو وہ وقت تھا کہ گائے کے بدلے خون ہو جاتے تھے مجھے معلوم ہے کہ ایک وقت سکھوں کے عہد میں محض ایک جانور کے لیے سات ہزار آدمی مارے گئے اور بٹالہ کا ایک واقعہ مشہور ہے۔ بھنڈاری جو وہاں کے رئیس ہیں ان کی حکومت تھی ۔ ایک سید شام کو دروازے میں داخل ہوا تو (بقیہ حاشیہ ) کی طرف منہ کر کے کہنے لگا کہ اس بانگ سے تو ہمارا کچھ بھرشٹ نہیں ہوا۔ کیا تم پر کوئی ایسا اثر ہوا ہے کہ تمہاری کوئی چیز بھرشٹ ہو گئی ہو؟ سر رشتہ دار ہنسا اور کہا کہ کچھ نہیں ۔ تب مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ پنڈت شریر معلوم ہوتے ہیں۔ ان سب کے مچلکے لیے جاویں اور اگر آئندہ کوئی ایسی شرارت کریں تو ان کو سزادی جاوے ۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۰،۹) لے بدر سے ۔ کسی امر کے ظہور سے پہلے اس کا مقدمہ اور پیش خیمہ ہوتا ہے۔ انگریزوں کا آنا اسلام کی ترقی کا مقدمہ ہے۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۰)