ملفوظات (جلد 9) — Page 44
تھے۔اس لیے اس بانگ کے بھی دشمن تھے۔ایسا ہی ایک واقعہ ہوشیار پور میں ہوا۔وہاں کسی شخص نے بانگ دی تو اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔صاحب ضلع نے اس مقدمہ کو نہایت حیرانی سے سنا۔انہوں نے حکم دیا کہ اس شخص کو حاضر کرو۔چنانچہ جب وہ حاضر آیا تو اسے کہا گیا کہ اچھا بانگ دو اور جس قدر اونچی آواز سے تم نے وہاں دی ہے اسی قدر آواز سے یہاں بھی دو اور اپنے سررشتہ دار کو بھی کہا کہ تم بھی خیال رکھو اس سے کیا تکلیف ہوتی ہے۔بانگ دینے والے نے آہستہ آواز سے بانگ دی تو شکایت کرنے والوں نے کہا کہ اس نے اونچی آواز سے دی تھی اب یہاں آہستہ دیتا ہے۔تب اسے کہا گیا کہ خوب زور سے دو۔آخر اس نے بانگ دی۔جب وہ ختم کر چکا تو صاحب نے سر رشتہ دار سے پوچھا کہ تمہیں کچھ تکلیف ہوئی؟ اس نے کہا کہ نہیں صاحب! صاحب نے کہا کہ ہم کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔اسے کہا کہ جاؤ جا کر بے شک بانگ دو کچھ ہرج نہیں ہے۔۱ ۱ بدر میں یہ واقعہ یوں درج ہے۔’’مسلمان کے مسجد میں بلند آواز سے اذان کہنے پر تمام پنڈت برہمن جمع ہوئے اور فریاد کرتے ہوئے مجسٹریٹ ضلع کے پاس پہنچے جو کہ انگریز تھا اور اس کے سامنے شکایت کی کہ ہم پر بڑا سخت ظلم ہوا ہے کہ ایک مسلمان نے بانگ دی ہے اور اس بانگ نے سخت نقصان کیا ہے کیونکہ اس سے ہماری چیزیں بھرشٹ ہوگئی ہیں۔نہ آٹے گوندھے ہوئے پکانے کے کام کے رہے نہ روٹیاں پکی ہوئی کھانے کے لائق رہیں۔نہ کپڑا پہننے کے قابل رہا۔گھر کے سب برتن بھرشٹ ہوگئے۔مجسٹریٹ دانا تھا۔اس نے کہا کہ وہ بڑی پُر تاثیر اذان معلوم ہوتی ہے۔اس مؤذن کو فوراً بُلایا چنانچہ وہ مؤذن طلب کیا گیا اور مجسٹریٹ کے سامنے حاضر ہوا۔ایک طرف غریب مؤذن اکیلا کھڑا تھا اور دوسری طرف پنڈتوں، برہمنوں اور کھتریوں کے گروہ کے گروہ داد فریاد کرتے ہوئے جمع ہوئے۔انگریز نے اس مؤذن کو کہا کہ ہم تمہاری اذان سننا چاہتے ہیں تم ہمارے سامنے اسی طرح اذان کہو۔چنانچہ اس نے اذان کہی۔صاحب نے کہا اس اذان سے تو کوئی ایسی بات معلوم نہیں ہوتی اور ہندوؤں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ کیا اس ملّاں نے اسی طرح اذان بانگ دی تھی؟ اس پر سب برہمن اور ان کے ساتھی چیخ چلّا اٹھے کہ نہیں حضور وہ بانگ تو بلند آواز سے تھی۔تب مجسٹریٹ نے کہا کہ تم نے یہ بانگ بہت آہستہ کہی ہے۔تم بلند آواز سے بانگ کہو۔تب اس نے بہت بلند آواز سے بانگ کہی جس کو مجسٹریٹ نہایت غور سے سنتا رہا اور بعد ختم ہونے کے تعجب کےساتھ اپنے سر رشتہ دار