ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 38

بے دردی سے ایذائیں دیں اور قتل کر ڈالا لیکن اس زمانہ میں جو آزادی کا زمانہ ہے اس قسم کی کوئی تکلیف نہیں دے سکتے۔صرف زبان سے دکھ دیتے ہیں اور یہ کچھ چیز نہیں۔ہم پر خدا تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے اور ہم اس کا شکر نہیں کر سکتے کہ اس نے محض اپنے فضل سے ایسی گورنمنٹ کے ماتحت کر دیا جس کی وجہ سے ہمارے مخالف ہمارے خلاف اپنے جوشِ مخالفت میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ اسی گورنمنٹ کی آزادی اور انصاف پسندی کا ہی سبب ہے کہ وہ جوش ہمارے مخالف ظاہر نہیں کر سکتے جو انہیں ہمارے لیے ہونا چاہیے۔وہ دانت پیستے ہیں اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو ہمیں نیست و نابود کر کے ہی خوش ہوتے۔مگر انہیں کوئی قابو نہیں ملتا۔میں اس اَمر پر غور کر کے اور پچھلے دکھوں کو جو ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو پہنچے یاد کر کے خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر کرتا ہوں جس نے محض اپنے ہی فضل و کرم سے ہمیں ایسی نیک خیال گورنمنٹ عطا کی۔وہ کیسا رحیم و کریم خدا ہے۔جب اس نے چاہا کہ ضعفِ اسلام کے وقت یہ سلسلہ قائم کرے خود ہی اس نے انتظام کر دیا کہ ایسی گورنمنٹ کو بھیج دیا جو امن پسند ہے۔میں یہ بات ریاکاری سے نہیں کہتا۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ ریا کار اور خوشامدی منافق ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نفاق کو دور کرنے آئے ہیں اور واقعات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی تعریف کریں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہوں۔ہم اپنے ہی حالات زندگی کو دیکھتے ہیں کہ اس وقت کس امن اور آزادی کے ساتھ اس سلسلہ کی اشاعت کر رہے ہیں۔پچیس سال سے زیادہ عرصہ سے ہم اس اشاعت کے کام لگے ہوئے ہیں اور پوری آزادی اور امن سے اسے کر رہے ہیں۔خود گورنمنٹ کے ملکوں (بلادِ یورپ ) میں سولہ ہزار اشتہار دعوتِ اسلام کا میں نے جاری کیا۔اور وہ اشتہارات معمولی آدمیوں میں تقسیم نہیں کئے گئے بلکہ معززین کو بھیجے گئے (جن میں شاہی خاندان کے ممبر اور گورنمنٹ کے اعلیٰ عہدہ دار اور اراکین شامل تھے) یہاں تک کہ ملکہ معظمہ کو بھی ایک کتاب دعوت اسلام کی بھیجی گئی اور انہوںنے ایسی محبت اور قدر سے اسے