ملفوظات (جلد 9) — Page 338
تجویز میں ہیں کہ مریخ سیارے کے لوگوں سے باتیں کی جاویں۔فرمایا۔یہ وہی بات پوری ہو رہی ہے جو ان کی نسبت پہلے سے کہا گیا ہے کہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے۔فرمایا۔ان لوگوں کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہر اَمر کے واسطے طاقت کھول دی ہے۔دیکھئے! انجام کیا ہوتا ہے؟ سیّد احمد صاحب مثیل یوحنا تھے فرمایا۔جس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے یوحنا نبی خدا تعالیٰ کی توحید کی تبلیغ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔اسی طرح ہم سے پہلے اسی ملک پنجاب میں سیّد احمد صاحب توحید کا وعظ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔یہ بھی ایک مماثلت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری کر دی۔خدا کی اولاد سے مراد فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْـزِلَۃِ اَوْلَادِیْ اس جگہ یہ تو نہیں کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ بمنزلہ اولاد کے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسیٰ کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں۔حالانکہ خدا کی کوئی اولاد نہیں اور خدا نے یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی ردّ نہیں کیا جو کہتے تھے کہنَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ(المائدۃ:۱۹) بلکہ یہ ظاہر کیا ہے کہ تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔در اصل یہ ایک محاورہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کے حق میں اکرام کے طور پر ایسے الفاظ بولتا ہے۔جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ میں اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں اور میں اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں اور جیسا کہ حدیثوں میںہے کہ اے بندے! میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ دیا اور میں بھوکا تھا تو نے مجھے روٹی نہ دی۔ایسا ہی توریت میں بھی لکھا ہے کہ یعقوب خدا کا فرزند بلکہ نخست زادہ ہے۔سو یہ سب استعارے ہیں جو عام طور پر خدا تعالیٰ کی عام کتابوں میں پائے جاتے ہیں اور احادیث میں ہے۔اور خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اسی واسطے استعمال کئے ہیں کہ تا عیسائیوں کا ردّ ہو۔کیونکہ باوجود ان لفظوں کے میں کبھی ایسا دعویٰ