ملفوظات (جلد 9) — Page 333
مامور من اللہ کی صداقت کے نشان اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اس کے لیے چند نشان ہوا کرتے ہیں جن سے اس کی سچائی پرکھی جاتی ہے۔اوّل یہ کہ وہ پاک اور صاف تعلیم لے کر آتا ہے جب اس کی تعلیم گندی ہوگی تو اس کو قبول کون کرے گا؟ دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیسی پاک ہے۔اس میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں اور کسی قسم کے شرک کی گنجائش نہیں۔دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ بڑے بڑے نشان ہوتے ہیں اور وہ نشان ایسے ہوتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی دنیا میں کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تیسرے یہ کہ گذشتہ انبیاء کی جو پیشگوئیاں اس کے متعلق ہوتی ہیں وہ اس پر صادق آتی ہیں۔چوتھی بات یہ ہے کہ اس وقت زمانہ کی حالت خود ظاہر کرتی ہے کہ کوئی مامور من اللہ آوے۔پانچویں بات یہ ہے کہ سچے مدعی کا صدق اور اخلاص، استقلال اور تقویٰ نہایت اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے اور اس میں ایک کشش ہوتی ہے جس سے وہ اوروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔تمام قرآن مجید میں یہی موٹی باتیں ہیں جن سے کسی مامور کی سچائی کا پتا لگتا ہے۔اب جس کو ایمان کی ضرورت ہے وہ یہی پانچ علامتیں پیش کر کے ہمارا امتحان کر لے۔اس صدی کا مجدّد کون ہے اور پھر دیکھو کہ یہ لوگ خود بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد آیا کرتا ہے لیکن افسوس کہ بقول ان کے چودھویں صدی کے سر پر کوئی مجدّد نہ آیا۔حالانکہ چوتھائی حصہ صدی کا گذر بھی گیا ہے اور ہزار ہا لوگ دین اسلام سے مرتد بھی ہو چکے ہیں۔ہر ایک خاندان اور ہر ایک قوم کے لوگ عیسائی بن چکے ہیں۔ایک وقت وہ تھا کہ اگر ایک مسلمان بھی مرتد ہوجاتا تھا تو قیامت برپا ہوجاتی تھی، لیکن اب تو ہر ایک قوم سادات، مغل، قریش، پٹھان اور ہر ایک طبقہ کے لوگ عیسائی مذہب میں موجود ہیں اور مخلوق پرستی کا وہ طوفان برپا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ایسا سننے میں نہیں آیا۔تو اب بتلاؤ کہ جن صدیوں میں