ملفوظات (جلد 9) — Page 334
ایسا طوفان نہ تھا ان میں تو مجدّد آتے رہے لیکن جس صدی میں اسلام کو نیست و نابود کرنے کے ہزار ہا سامان پیدا ہوگئے اور لاکھوں انسان مرتد ہو گئے اور بے دینی اور فسق و فجور حد سے زیادہ بڑھ گیا اور صدی میں سے پچیس برس گذر بھی گئے اس میں کوئی مجدّد نہ آیا۔اور جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس صدی کا مجدّد میں ہوں تو اسے دجّال سمجھا جاتا ہے اور کذاب اور مفتری خیال کیا جاتا ہے۔ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ ہمارے انجام کو دیکھتے۔ہم نے ایک سو ستاسی نشانات کتاب حقیقۃ الوحی میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ درج کئے ہیں۔اب ان کو چاہیے کہ کسی جھوٹے میں وہ نشانات ثابت کریں۔ہمارا موقف تعلیم کی نسبت سن لو کہ ہم ان تمام ناپاکیوں کو دور کرتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائی جاتی ہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسّ شیطان سے پاک نہیں ہم کہتے ہیں کہ وہ افضل الرسل، سید المعصومین، رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین ہیں اور مسّ شیطان سے سب سے بڑھ کر پاک ہیں اور تمام کمالات نبوت انہیں کی ذات پاک پر ختم ہوگئے ہیں۔اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ہم ایمان لاتے ہیں کہ کوئی بشر آسمان پر نہیں جا سکتا۔قرآن مجید میں صاف طور پر سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسـرآءیل:۹۴) لکھا ہے اور پھر اسی قرآن مجید میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ بھی درج ہے۔اگر حضرت عیسٰی دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے کسر صلیب کی ہوتی، کافروں کو قتل کیا ہوتا۔تو کیا ان کو قیامت کے دن خدا کے حضور میں یہی جواب دینا چاہیے تھا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی خبر نہیں؟ باوجودیکہ دوبارہ آکر انہوں نے کافروں اور مشرکوں کو مسلمان کیا۔اپنے ذاتی مشاہدہ سے تمام حالات معلوم کر لیے مگر خدا کے رو برو کہیں گے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی خبر نہیں۔کیا وہ خدا کے عرش کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور خدا خاموش ہو رہے گا؟ کیا خدا اتنا بھی نہ کہے گا کہ تم کیوں جھوٹ بولتے ہو۔تم تو دوبارہ دنیا میں گئے تھے۔عیسائیوں کو تم نے مسلمان کیا تھا پھر یہ کیوں کہتے ہو کہ اس کی خبر نہیں؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ عدالتوں میں بھی انسان حلف دروغی کے باعث