ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 325

کہتے ہو کہ یہ صفات کسی انسان میں نہیں پائے جاتے تو ضرور ہے کہ وہ خدا ہو جس میں خاص بلا شرکت غیر ایسے صفات پائے جاتے ہیں۔اس وقت اسلام پر دو بڑے فتنے ہیں۔ایک تو بیرونی فتنہ ہے کہ کئی لاکھ آدمی مرتد ہو کر عیسائی ہو چکا ہے اور باقی بہت سے نیم مرتد پھرتے ہیں۔ارتداد کے دروازے ہر طرف سے کھلے ہیں۔دوسرا بیرونی ۱فتنہ ہے کہ مسلمان لوگ اپنے عقائد کے ساتھ اس ارتداد میں امداد کرتےہیں کیا ایسے فتنہ عظیمہ کے وقت کسی مجدّد کے آنے کی ضرورت نہیں؟ قاعدہ ہے کہ جس قسم کی اصلاح کے واسطے کوئی شخص دنیا میں آتا ہے اس کے مطابق اس کا نام بھی رکھا جاتا ہے۔چونکہ اس زمانہ میں بڑا فتنہ عیسویت کا تھا۔اس واسطے اس کی اصلاح کے واسطے جو مجدّد بھیجا گیا اس کا نام مسیح ہی رکھا گیا ہے۔۲ بلا تاریخ مُردہ کو ثواب کا پہنچنا ایک شخص نے دریافت کیا کہ مُردے کو کھانے کا ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور ساتھ ہی مختلف اشیاء کے نام لے لے کر تفصیل وار پوچھنا شروع کر دیا کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے یا نہیں؟ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ طعام کا ثواب پہنچتا ہے بشرطیکہ حلال کا طعام ہو۔قرآن شریف جس طرز سے حلقہ باندھ کر پڑھتے ہیں یہ تو سنّت سے ثابت نہیں۔ملّاں لوگوں نے اپنی آمدن کے لیے یہ رسمیں جاری کر دی ہیں۔ہاں اگر خدا چاہے تو مُردہ کے حق میں دعا بھی قبول ہو جاتی ہے لیکن یاد رکھو کہ اپنے ہاتھ سے ایک پیسہ دینا بھی بہتر ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی دوسرا آدمی اس کے عوض میں بہت سا مال خرچ کر دے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے وہ نیتوں کو