ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 323

ضرورتاً اس قسم کے لفظ بولے گئے ہیں کہ مریم صدیقہ تھی اور حضرت عیسٰیؑ کا روح خدا کی طرف سے تھا ایسا ہی حدیث میں ضرورتاً یہ کلمات بولے گئے ہیںکہ حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش مسّ شیطان سے پاک تھی اور یہ ضرورت اس طرح سے واقعہ ہوئی تھی کہ یہودی لوگ کہا کرتے تھے بلکہ اب تک کہتے ہیں کہ حضرت مریم نعوذ باللہ زانیہ تھیں اور یسوع کی پیدائش ناجائز تھی اور مسّشیطان سے تھی۔اس الزام کے جواب میں خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں یہ بات فرمائی کہ یہ الزام جھوٹے ہیں بلکہ مریم صدیقہ تھی اور حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش مسّشیطان سے پاک تھی چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق کبھی کسی کافر کو ایسا وہم و گمان بھی نہ ہوا تھا بلکہ سب کے نزدیک آپؐاپنی ولادت کی رو سے طیب اور طاہر تھے اور آپ کی والدہ عفیفہ اور پاک دامن تھیں اس لیے آپ کی نسبت یا آپ کی والدہ ماجدہ کی نسبت ایسے الفاظ بیان کرنے ضروری نہ تھے کہ وہ مس شیطان سے پاک ہیں مگر حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت یہودیوں کے بہتان کی وجہ سے ایسے بَری کرنے والے الفاظ کی ضرورت پڑی۔یہی حال دیگر انبیاء علیہم السلام کا ہے۔ان کے متعلق بھی نہ کبھی ایسا اعتراض ہوا اور نہ اس کے دفعیہ کی ضرورت کبھی محسوس ہوئی۔افسوس ہے کہ ان علماء کو یہ خبر بھی نہیں کہ یہ باتیں کیوں قرآن و حدیث میں ذکر کی گئی ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ایسی باتیں کسی بہتان کے دفع کرنے کے لیے آتی ہیں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مریم صدیقہ پر ایک بڑا بہتان باندھا گیا تھا۔اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس کا نام صدیقہ رکھ دیا۔افسوس ہے نہ تو ان لوگوں کے اکابر سمجھتے ہیں اور نہ ان کا اقتدا کرنے والوں کو کچھ خیال آتا ہے کہ ایسے عقیدہ سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر داغ لگایا جاتا ہے۔اگر قرآن شریف میں خدا کے بندوں کا مسّ شیطان سے پاک ہونے کا ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت اور آپ پر ایمان کا یہ تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ ایسا ناپاک عقیدہ آپ کے متعلق نہ رکھا جاتا۔حضرت مریم کے متعلق یہ دعا تھی کہ۔اِنِّيْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ( اٰلِ عـمران:۳۷) مگر یہ دعا بھی اسی اعتراض کے رفع کرنے کے واسطے ذکر کی گئی ہے ورنہ