ملفوظات (جلد 9) — Page 313
جاوے اور اسی کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا سے بہت مانگے اور بہت توبہ استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تاکہ تزکیہء نفس ہوجاوے اور خدا سے سچا تعلق ہو جاوے اور اسی کی محبت میں محو ہوجاوے اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورہ فاتحہ میںہی آجاتا ہے۔دیکھو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ(الفاتـحۃ:۵) میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد کے لیے خدا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دعا مانگی گئی ہے اور ان انعامات کو حاصل کرنے کے لیے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا ور اسی جہان میں ہی ان پر غضب نازل ہوا یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصلی مقصود سمجھ لیا اور راہ راست کو چھوڑ دیا۔اصلی مقصد نماز کا تو دعا ہی ہے اور اس غرض سے دعا کرنی چاہیے کہ اخلاص پیدا ہو اور خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو اور معصیت سے جو بہت بُری بَلا ہے اور نامہ اعمال کو سیاہ کرتی ہے طبعی نفرت ہو اور تزکیہ نفس اور روح القدس کی تائید ہو۔دنیا کی سب چیزوں جاہ و جلال، مال و دولت، عزّت و عظمت سے خدا مقدم ہو اور وہی سب سے عزیز اور پیارا ہو اور اس کے سوائے جو شخص دوسرے قصے کہانیوں کے پیچھے لگا ہوا ہے جن کا کتاب اللہ میں ذکر تک نہیں وہ گرا ہوا ہے اور محض جھوٹا ہے۔نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتا وہ پوست پر ہاتھ مارتا ہے۔مصائب و شدائد ضروری ہیں فرمایا۔مصائب اور شدائد کا آنا نہایت ضروری ہے۔کوئی نبی نہیں گذرا جس کا امتحان نہیں لیا گیا۔جب کسی کا کوئی عزیز مَر جاتا ہے تو اس کے لیے یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔مگر یاد رکھو ایک پہلو پر جانے