ملفوظات (جلد 9) — Page 310
کی ہوئی ہیں جن پر عمل کرنے سے کہتے ہیں قلب جاری ہوجاتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ باوجود قلب جاری ہونے کے عملی حالت ان کی اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔اور ایسے وظائف میں سے ایک ذکر اَرّہ بھی ہے کہ جس کا نتیجہ آخر میں سِل ہوا کرتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھا ہے جیسے فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشمس:۱۰) اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان خدا کی رضا کے ساتھ راضی ہوجاوے۔کوئی دوئی نہ رہے۔خدا کے ساتھ کسی اور کی ملونی نہ رہے اور کسی قسم کی دوری یا جدائی نہ رہے۔صدق، وفا اور استقلال کی ضرورت یہ تھوڑی سی بات نہیں۔یہی وہ مشکل گھاٹی ہے جو بڑے بڑے مصائب اور امتحانوں کے بعد طے ہوا کرتی ہےیہ نماز جو تم لوگ پڑھتے ہو۔صحابہؓ بھی یہی نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی نماز سے انہوں نے بڑے بڑے روحانی فائدے اور بڑے بڑے مدارج حاصل کئے تھے۔فرق صرف حضور اور خلوص کا ہی ہے۔اگر تم میں بھی وہی اخلاص، صدق، وفا اور استقلال ہو تو اسی نماز سے اب بھی وہی مدارج حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے تھے۔چاہیے کہ خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار رہو۔یاد رکھو! جب اخلاص اور صدق سے کوشش نہیں کرو گے کچھ نہیں بنے گا۔بہت آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یہاں سے تو بیعت کر جاتے ہیں مگر گھر میں جا کر جب تھوڑی سی بھی تکلیف آئی اور کسی نے دھمکایا تو جھٹ مرتد ہوگئے۔ایسے لوگ ایمان فروش ہوتے ہیں۔صحابہؓ کو دیکھو کہ انہوں نے تو دین کی خاطر اپنے سر کٹوا دیئے تھے اور جان و مال سب خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔کسی دشمن کی دشمنی کی انہیں پروا تک بھی نہ تھی۔وہ تو خدا تعالیٰ کی راہ میں سب طرح کی تکالیف اٹھانے اور ہر طرح کے دکھ برداشت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے اور انہوں نے اپنے دلوں میں فیصلہ کیا ہوا تھا۔مگر یہ ہیں جو ذرا بھی نمبردار یا کسی اور شخص نے دھمکایا تو دین ہی چھوڑ دیا۔ایسے لوگوں کی عبادتیں بھی محض پوست ہی پوست ہوتی ہیں۔ایسوں کی نمازیں بھی خدا تک نہیں