ملفوظات (جلد 9) — Page 306
لاتا ہے اور کس قدر خرچ کرتا ہے اور کتنی کوشش کرتا ہے اور اگر باوجود اتنی کوشش کے وہ مقدمہ خارج ہوجاتا ہے تو پھر اپیل کراتا ہے بلکہ اگر وہ بھی خارج ہوجاتی ہے توپھر کیسی کیسی مصیبتیں برداشت کر کے اپیل در اپیل کرتا اور کیا کا کیا کر گذرتا ہے تو کیا دین کو ہی ایسا سمجھنا چاہیے کہ وہ محض پھونک مارنے اور کسی وِرد وظیفہ کے کرنے سے حاصل ہوجائے گا۔اور یونہی آرام طلبی سے گذارنے پر اس میں کامیابی ہوجائے گی؟ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف زبانی قیل و قال پر ہی ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور صرف اتنا کہنے سے ہی کہ ہم ایمان لے آئے دیندار سمجھے جائیں گے اور ان کا امتحان نہ ہوگا؟ بلکہ امتحان اور آزمائش کا ہونا نہایت ضروری ہے۔سب انبیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ترقی مدارج کے لیے آزمائش ضروری ہے اور جب تک کوئی شخص آزمائش اور امتحان کی منازل طے نہیں کرتا دیندار نہیں بن سکتا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ دکھ کے بعد ہی ہمیشہ راحت ہوا کرتی ہے۔یاد رکھو جو شخص خدا کی راہ میں دکھ اور مصیبت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں وہ کاٹا جاوے گا۔ترقی ہمیشہ مصائب اور تکالیف کے بعد ہوتی ہے اور ایمانی حالت کا پتا اسی وقت لگتا ہے جب تکالیف اور مصائب آویں۔روحانی فوائد حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنے آپ کو دکھ اور تکالیف اٹھانے کے لیے تیار کرلینا چاہیے۔؎ عشق اوّل سرکش و خونی بود تاگریزد ہر کہ بیرونی بود بعض لوگ آتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں پھونک مارو کہ اولیاء اللہ بن جاویں اور ہماراسینہ صاف ہو جاوے اور روحانی معراج پر پہنچ جاویں اور ہمارے قلب میں پاکیزگی پیدا ہوجاوے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ سب کچھ دکھوں اور تکالیف کے بعد مل جاتا ہے اور ضرور مل جاتا ہے مومن کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔جب انسان دنیا کے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کر لیتا ہے۔ایک کسان کو ہی دیکھو کہ پہر رات کے قریب اٹھتا ہے۔ہل جوتتا ہے اور کتنی تکالیف اٹھاتا اور محنت