ملفوظات (جلد 9) — Page 291
ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ جو دوبارہ فرمایا ہے کہ گذشتہ طاعون کی نسبت آئندہ شدت سے طاعون کا حملہ ہونے والا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی نہایت ہی خطرناک دن آنے والے ہیں اور آگے کی نسبت سخت زور سے طاعون پھیلنے والی ہے۔فرمایا۔بالفرض اگر کسی انسان کا گھر محفوظ بھی رہے۔مگر سجّے کھبّے، دائیں بائیں، چِیک چہاڑا اور شور و غوغا ہوتو وہ بھی ایک مصیبت ہے۔فرمایا۔خدا کے الہام کے مطابق سخت اندیشہ ہے کہ اب کے سال ہی یا دوسرے ایسی سخت طاعون پڑے کہ پہلے نہ پڑی ہو۔اس لیے یہ دن نہایت خوف کے دن ہیں۔طاعون کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہوا ہے کہ میں روزہ بھی رکھوں گا اور افطار بھی کروں گا۔کلامِ الٰہی میں استعارات اس پر ایک شخص نے عرض کی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا بھی اب روزے رکھنے لگ گیا ہے۔فرمایا۔ساری کتابوںمیں اس قسم کے فقرات پائے جاتے ہیں۔فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (البقرۃ:۲۰۱) اور يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ(الفتح:۱۱) ایسے فقرات قرآن مجید میں لکھے ہیں۔حدیث شریف میں لکھا ہے کہ خدا تردّد کرتا ہے۔توریت میں لکھا ہے خدا طوفان لا کے پھر پچھتایا۔یہ تو استعارات ہوتے ہیں۔ان پر اعتراض کرنے کے معنے ہی کیا؟ بلکہ ان سے تو سمجھا جاتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اس بات کو سوچنا چاہیے کہ بناوٹ والے انسان کو کیا مشکل بنی ہے جو وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کرے جن پر خواہ نخواہ اعتراض ہوں۔دیکھو! قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دو۔اس وقت بھی بعض نادان لوگ کہنے لگ گئے تھے کہ لو! اب خدا مفلس اور محتاج ہوگیا ہے۔خوب یاد رکھو کہ اگر اللہ چاہتا تو ایسے الفاظ استعمال نہ کرتا۔اصلیت دیکھنی چاہیے۔قرض کا مفہوم تو صرف اسی قدر ہے کہ وہ شَے جس کے واپس دینے کا وعدہ ہو۔ضروری نہیں کہ لینے والا مفلس بھی ہو۔ایسی باتیں ہر کتاب میں پائی جاتی ہیں۔حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ