ملفوظات (جلد 9) — Page 290
۲۸؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ عصر) طاعون سے بچنے کے لیے حفظ ماتقدم کسی نے ٹیکہ لگوانے کی بابت دریافت کیا۔فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی بیماری نہیں جس کی دوا نہ ہو۔ٹیکہ بھی ایک دوا ہے۔مسلمانوں کو اگر وہ مسلمان بن جاویں تو خدا ہی ان کا ٹیکہ ہے۔چاہیے کہ جس جگہ بیماری زور پکڑ جاوے وہاں نہ جاویں اور جس جگہ ابھی ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے باہر کھلی ہوا میں چلے جائیں۔مکان، بدن اور کپڑے کی صفائی کا بہت خیال رکھیں کوشش تو اس کے روکنے کی بہت ہو رہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس حالت کو نہیں بدلائے گا جب تک دلوں کی حالت میں یہ لوگ خود تبدیلی نہ کریں مجوزوں نے سب زور اسباب کے مہیا کرنے میں لگا دیا ہے۔اگر یہ بیماری دور بھی ہو جاوے تو ممکن ہے کوئی اور بَلا آجاوے۔توکل کی جو بات خدا نے ہمیں سکھائی ہے وہ تو ان کے وہم میں بھی نہیں آتی ہوگی۔اگر اسباب اور دوسری باتوں پر اتنا بھروسہ کیا گیا تو شاید کوئی اور وبا آجاوے۔ہماری جماعت کے لیے بہت بہتر ہے کہ جس جگہ کوئی چوہا مَرے تو وہاں سے نکل جاوے اور دور اندیشی تو یہ ہے کہ پہلے ہی سے جگہ تجویز کر لی جاوے اور عام میل جول نہ رکھے۔صرف اپنے زیادہ قریبیوں اوردوستوں سے ملاقات رکھنی چاہیے۔ایسے دنوں میں کثرت سے پرہیز کرنی چاہیے اور گندی اور زہریلی ہوا سے علیحدہ رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ(المدثر:۶) اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ایسی جگہ پر ٹھہرنے سے منع کیا تھا جہاں پہلے ایک دفعہ عذاب آچکا تھا۔قہر الٰہی ابھی بھڑکنے والا ہے فرمایا۔طاعون کیسا قہر الٰہی ہے کہ ہر سال سر پر آجاتی ہے اور پھر ایسی آتی ہے کہ لوگ دیوانہ کی طرح ہوجاتے ہیں اورمیں نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض آدمی قبریں پہلے ہی سے کھود رکھتے ہیں بڑے ہی خوفناک دن