ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 20

جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور ان راستبازوں کا جو پہلے ہو گذرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں۔جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔افسوس! ان نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس عالم سے حصہ نہ رکھتا ہو جہاں سے نماز آئی ہے۔۱ نماز ایسی چیز ہے جو جامع حسنات ہے اور دافع سیئات ہے۔میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ نماز کے جو پانچ وقت مقرر کئے ہیں اس میں ایک حقیقت اور حکمت ہے۔نماز اس لیے ہے کہ جس عذاب شدید میں پڑنے والا مبتلا ہے وہ اس سے نجات پالیوے۔اوقاتِ نماز کے لیے لکھا ہے کہ وہ زوال کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔یہ اس اَمر کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان غنی ہوتا ہے تو وہ طاغی ہوجاتا ہے اور حدود اللہ سے نکل جاتا ہے لیکن جب اس کو کوئی دکھ اور درد پہنچے تو پھر یہ فطرتاً دوسرے کی مدد چاہتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پس جب اس پر ابتداءِ مصیبت ہو تو اسی سے گویا نماز شروع ہوجاتی ہے مثلاً ایک شخص پر غیر متوقع گورنمنٹ کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوگیا کہ فلاں اَمر کے متعلق تم اپنا جواب دو۔یہ پہلا مرحلہ ہے جو مصیبت کا آغاز ہوا اور ۱ کتابت کی غلطی سے عبارت نامکمل رہ گئی ہے۔بدر میں یہ عبارت یوں درج ہے۔’’جب تک کہ انسان اس عالم میں سے حصہ نہ لے جس سے نماز اپنی حد تک پہنچتی ہے تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کس طرح یقین کر سکتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲)