ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 19

بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشاء یا منکر سے روکتی ہے۔پھر نماز کیا ہے؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو۔اسی لیے اس کا نام صلوٰۃ ہے۔کیونکہ سوزش اورفرقت اوردرد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بد ارادوں اور بُرے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے۔صلوٰۃ کا لفظ اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ نرے الفاظ اور دعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش، رِقّت اور درد ساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دعا کو نہیں سنتا جب تک دعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دعا مانگنا ایک مشکل اَمر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض نا واقف ہیں۔بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں اَمر کے لیے دعا کی تھی مگر اس کا اثر نہ ہوا اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بد ظنی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ جب تک دعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔دعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دعا میں لگا رہے پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعا قبول ہوگی۔نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنا ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام رکوع سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لیے خواہ اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ایک اور افسوسناک اَمر پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ہی مسلمان نماز کی حقیقت سے ناواقف تھے اور اس پر توجہ نہیں کرتے تھے۔اس پر بہت سے فرقے ایسے پیدا ہوگئے جنہوں نے نماز کی پابندیوں کو اڑا کر اس کی جگہ چند وظیفے اور ورد قرار دیئے گئے۔کوئی نوشاہی ہے۔کوئی چشتی ہے کوئی کچھ ہے کوئی کچھ۔یہ لوگ اندرونی طور پر اسلام اور احکامِ الٰہی پر حملہ کرتے ہیں اور شریعت کی پابندیوں کو توڑ کر ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔یقیناً یاد رکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم